ناقابل برداشت"

  • ناقابل برداشت" 
    ہالینڈ میں کھلے عام چیلنج کے طور پر ہمارے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علی وسلم کی شان میں گستاخی ہو رہی هے اور نہایت افسوس کی بات هیکہ وہ یہ کام کھلم کھلا کرنے لگے ہیں اور باقاعدہ اس طرح کا مواد سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں افسوس اس بات کا ہے اس وقت دنیا میں کوئی بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسا موجود نہیں  حضرت عمر اپنی ذات پر ہر بات برداشت کر لیتے تھے لیکن وہ کبھی اپنے نبی کی شان میں گستاخی برداشت نہ کرتے.
     ایک  دن  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان اور یہودی دونوں کے درمیان کسی مسئلہ پر فیصلہ سنایا اور وہ فیصلہ یہودی کے حق میں تھا اس مسلمان نے سوچا حضرت عمر اس معاملے پر اس کے حق میں فیصلہ سنائیں گے کیونکہ وہ بہت جلیل القدر صحابہ تھے وہ یہودی اور مسلمان جب حضرت عمر کے پاس پہنچے اور اپنا مقدمہ پیش کیا جب اس یہودی نے حضرت عمر کو بتایا حضور صل اللّہ علیہ وسلم پہلے ہی انکا فیصلہ سنا چکے ہیں اور وہ فیصلہ میرے حق میں تھا وہ مسلمان کہنے لگا مجھے آپ سے انصاف چاہیے یہ سننا تھا کہ حضرت عمر اپنی جگہ سے اٹھے اپنی تلوار نکالی اور اس مسلمان کا سر قلم کیا اور فرمایا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہ مانے اس کے لیے عمر کا یہی فیصلہ ہے .
    صحابہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے تھے اسلام کی خاطر کیونکہ وہ جانتے تھے اسلام سے بڑھ کر اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اس دنیا میں کچھ نہیں اس آرٹیکل کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں پتا ایک دن مرنا ہے اور کس طرح سے قیامت کے دن ہم صحابہ سے نظریں ملائیں گے یہ تو وہ تھے جو حضور کے لئے غزوہ احد میں چٹان بن کر کھڑے ہوئے حضور صلی اللہ وعلی وسلم سے محبت کی ان کی یہ مثال تھی کے جو کام جس طرح سے آپ نے کیا صحابہ نے اس کام کو ویسے ہی کیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حق میں دعائیں کرتے رہے صحابہ تو بخشے بخشائے تھے ان کو تو دنیا میں ہیں بشارتیں مل گئی تھی مسئلہ ہمارا تھا ہمارے لئے وہ نبی دونوں جہانوں کے سردار اپنے رب کے حضور روتے اور کہتے رہے یا ربی امتی اللہ میری امت میری امت.
     ان کی دعائیں ہیں ورنہ ہمارا حال بھی دوسری قوموں کی طرح ہوتا قیامت کے دن جب ہر کوئی نفسا نفسی کرے گا جب اللہ تعالیٰ اپنے جلال میں ہونگے پیغمبر یہ کہیں گے یارب نفسی نفسی تب میرے اور آپکے نبی دو جہانوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ وعلی وسلم یہی کہیں گے یااللہ میں آج آپ سے اپنی امت کا سوال کرتا ہوں یارب یا ربی امتی آج دنیا میں تقریبا 50 ملک مسلمانوں کے ہیں  ۱.۸بلین مسلمان موجود ہیں افسوس اس بات کا ہے ہمارے کانوں پر کوئی فرق نہیں پڑا تھوڑا بہت پڑا بھی تو ہم نے وہ سوشل میڈیا کی حد تک رکھا اگر میں بات کروں ھمارے لیڈرز کی انہوں نے بھی اس موضوع کو زیر بحث  لایا لیکن کوئی ایسا اقدام ابھی تک نہ کیا نا ہی سفارتی تعلقات ختم ہوئے ذرا سوچئے ۱.۸ بلین مسلمان کچھ نہیں کر سکتے " ہم پاکستانی مسلمان زیادہ نہیں تو کیا اس چیز پر ایک نہیں ہو سکتے اس مسئلہ کو لے کر ہم 1 پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہو سکتے  ہالینڈ میں 10 نومبر کو ہمارے نبی کے خاکوں کی نمائش ہو رہی ہے ہم زیادہ نہیں حکومت پاکستان سے ان کے سفارت خانے بند کرنے کی گزارش کرتے ہیں .
    ہم ہر مسئلے کو سنجیدگی سے لیں یا نہ لیں لیکن اس معاملے پر ہم کو ایک ہونا ہوگا جس طرح اسرائیل کے ساته  ہمارے کسی قسم کے اور ہمارے ملک کے کوئی تعلقات نہیں هیں اسی طرح ہالینڈ کے ساتھ بهی کیا جائے ان کی تمام تر پروڈکٹس جو پاکستان میں اس وقت چل رہی ہیں ان کو بند کیا جائے .
      افسوس کی بات ہے کیا ہم مسلمان اتنے کمزور ہوگئے ؟ مانا کہ اسلام  تمام مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے لیکن یہ بات بھی بتاتا چلوں کے چاہے ہم کتنے ہی ایمان کے لحاظ سے کمزور ہوگئے ہیں لیکن ہم کسی صورت بهی یہ گستاخی ہمارے نبی کی شان میں برداشت نہیں کر سکتے  ایک اور بات بتاتا چلوں اسلام وہ مذہب ہے جس کو ختم کرنے کی بہت کوشش کی گئ لیکن  آج تک اور نہ آگے کوئی کر پائے گا  جس نے قرآن پاک کو ختم  کرنے کی کوشش کی جب وہ ایک جگہ پر گیا بڑے ناز میں تھا تب ایک چھوٹا سا بچہ کھڑا ہوا اور ۱ ل سے شروع کیا اور والناس تک سنایا اس شخص نے توبہ کی اور کہا قرآن اللہ کی کتاب اور اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا اگر فرعون پانی میں غرق ہو سکتا ہے نمرود مچھر سے مر سکتا ہے کارون زمین میں دنس سکتا ہے مکہ کی حفاظت کے لیے ابابیل آسکتے هیں جب کنویں میں بچہ بچ سکتا ہے اور وہ مصر کا بادشاہ بن سکتا ہے جب زم زم پانی  بن سکتا ہے  غزوہ بدر میں مٹھی بھر مسلمان کفار کے لشکر کو شکست دے سکتے ہیں جب پانی میں گھوڑے جا سکتے ہیں تین مسلمان ہزاروں کافروں کو ڈرا سکتے ہیں ایک نوجوان برصغیر میں مسلمانوں کا  اقتدار رکھ سکتا ہے جب پاکستان بن سکتا ہے اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے ہر چیز کا تصور اور اس کا یقین اس بات پر ہے کیا آپ کتنا اس میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں اگر ہمارا ایمان مضبوط ہو جائے تو ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں یقین جانیے پانی میں گھوڑے آج بھی جا سکتے ہیں ہم کفار کو ہر میدان میں شکست دے سکتے ہیں لیکن آج ہمارا ایمان بہت کمزور ہوگیا ہم دنیا میں اس طرح مصروف ہوئے کہ آخرت بھول ہی گئے ہم یہ بھی بھول گئے کہ جب ہم اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے تو ھم کیا جواب دینگے ہم کیسے مسلمان ہیں جن کے سامنے اس کے نبی کی شان میں گستاخی ہوتی رہی اور ھم چپ چاپ تماشا دیکھتے رهے
     حضرت امام مالک 
    فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر بات ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت خاموش رہے تو وہ امت اجتماعی طور پر مر جائے اسے جینے کا کوئی حق نہیں. ذرا سوچیں پھر سے ذرا سوچئے!
    ہمارے نبی کی شان  میں گستاخی ہم کبھی برداشت نہیں کر سکتے اور نہ کبھی کریں گے  تمام علماء کو اس تمام فرقوں کو اس مسئلہ پر ایک ہونا چاہیے اور متفقہ طور پر اس مسئلہ کو لے کر چلنا چاہیے ہمارے لئے تمام انبیاء کرام کا احترام و عزت ہم سب پر فرض ہے 
    اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایمان کی ایک علامت بیان فرمائی کہ مومن ایسے لوگوں سے قلبی روابط اور تعلقات رکھنا جائز نہیں سمجھتے جو حضور صلی اللہ علی وسلم کے گستاخ اور ان کی مخالفت کرتے ہوں
    مسلمانوں ذرا سوچو ہم کیسے مومن ہیں ہمارے سامنے ہمارے نبی کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے اور ہم اندھے بہرے ہو کر یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اکٹھے ہوکر احتجاج کریں
    ہمیں حکومت کے سامنے یہ مطالبات رکھنے چاہیےکہ حکومت گیرٹ ولڈرز کے خلاف سرکاری طور پر عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کرے.
    ہالینڈ کے سفارت خانے کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے.
    ہالینڈ سے ہر قسم کے سفارتی و تجارتی تعلقات کا خاتمہ کیا جائے
    میری تمام مسلمان بھائیوں سے گزارش ہے کہ ہم اس مسئلہ کو سوشل میڈیا تک محدود نہ رکھیں سوشل میڈیا پر اپنی پروفائل پیکچرز تبدیل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں مل کر اس مسئلے پر آواز اٹھانی ہوگی.کیا خوب کہا حضرت علامہ اقبال نے
     کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
      اب ہم سب کو مل کر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنتوں کو اپنانا ہوگا تاکہ پوری دنیا کو پتہ چلے ہم مسلمانوں کو اپنے نبی سے کتنی محبت ہے اور اس دور میں جب لوگ آپ صلی اللہ وعلی وسلم کی سنتوں کو بھول جائیں اس دور میں ایک چھوٹی سی سنت زندہ کرنے کے بدلے شہید جتنا اجر ملتا ہے بہت کمزور ہیں ہم لیکن اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں نبی کی سنتوں کو اپناہیں کیا ہم یہ بھی نہیں کرسکتے پر ہم کیوں نہیں کرسکتے کیا اور کس لئے نہیں کر سکتے اس کالم کو لکھنے کا مقصد یہی ہے ذراسوچئے ہم کدھر جا رہے  
    ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے
    آج ہماری تباہی اور رسوائی کی وجہ صرف اور صرف ہماری اللہ سے اور قرآن سے دوری ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں سے ہٹ کر اور غیروں کے طریقوں کو اپنانا یہی وجہ ہے کہ ہم ذلت اور رسوائی کا شکار ہیں ہم تو وہ قوم تھے جو خدا کا نام لے کر کچھ بھی کر سکتے تھے لیکن جب سے ہم نے مذہب سے دوری اختیار کی اتنا ہی ہم رسوائی کا شکار  غیروں کے طریقوں میں کمیابی ڈھونڈ رہے ہیں ہم آخر کیوں آخر کیوں   
    کیا ہی خوب اچھا ہوتا کہ ہماری زندگی عشق رسول سے شروع ہوتی اور عشق رسول پر ختم ہوتی 
                              عاقب عباسی