تعلیم کی اہمیت

  • کسی بھی قوم افراد کی ترقی کا انحصار تعلیم پر ہے تاریخ گواہ ہے کہ قوموں پر عروج و زوال کی بنیادی وجہ تعلیم ہے اگر ہم تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جن قوموں نے تعلیم کے معیار کو بلند کیا ترقی اور کامرانی ان کا مقدر بنی
    کسی بھی ملک کے لیے تعلیم ناصرف ترقی و کامرانی کا سبب بنتی ہے بلکہ اس ملک کی معاشی ،معاشرتی ترقی اور اخلاقی برائیوں کا خاتمہ بھی تعلیم کی وجہ سے ہی ہوتا ہے
    ایک ہ پڑھا لکھا معاشرکسی بھی ملک کی خوش قسمتی ہوتی ہے
    برصغیر پاک وہند میں جب تک انگریزوں کا قبضہ رہا تب تک مسلمانوں کا مذہبی اقتدار بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا تھا مسلمان انگریزوں کے تسلط میں رہ کر غیر مذہبی رسومات اپنانے پر مجبور ہو گئے تھے مسلمانوں کے اندر سے اسلامی تعلیمات کے خاتمے کی پوری کوششیں کی جا رہی تھی مسلمانوں کے لئے وہ بہت تاریکی کا دور تھا لیکن اگر ہم اس دور کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس بات کا اندازہ ہوجائے گا کہ مسلمانوں کو اس تاریکی سے نجات دلانے کا سب سے بڑا سبب تعلیمی مدارس بنے
    یہ بات ہم پر واضح ہے کہ دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کیے بغیر ہم کبھی  ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ہم اپنی مذہبی ثقافت کو برقرار رکھ سکتے ہیں 
    ہمارے مذہب اسلام میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی تاکید فرمائی ہم نے بہت سی اسلامی کتابوں میں علم کے حصول کے بارے میں پڑھا ہوگا جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض قرار دیا ہے اور کچھ اس طرح سے بھی فرمایا ہے کہ" علم مومن کی گمشدہ میراث ہے یہ جہاں سے ملے اسے اپنا لو"
    جو شخص علم کی جستجو کے لئے نکلتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے
    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل نے تو علم کی فضیلت اور اہمیت کو اور بڑھا دیا کہ جب جنگ بدر کے کفار قیدی فدیہ ادا نہیں کرسکتے تھے۔ ان سے فرمایا"تم دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دو یہی تمہارا فدیہ ہے اور تم آزاد کر دیے جاؤ گے"
    لیکن افسوس ہے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں سب سے زیادہ غیر سنجیدگی تعلیم کے حصول اور فروغ میں ملتی ہے
    ہمارے ملک کو آزاد ہوئے 67 سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ہمارے لیے اچھا کیا برا کیا ہے کبھی ہم پکے مسلمان بننے کی کوشش کرتے اور کبھی مغربی طرز زندگی کو اپنا رہے ہوتے ہیں یہاں تک کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں بھی مغربی تعلیمی نظام کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ہماری قومی زبان اردو ہے لیکن ہمارے سارے نصاب انگلش میں پڑھائے جاتے ہیں اس کی وجہ سے ہم اپنی قومی زبان سے دور ہوتے جا رہے ہیں  اس کا سب سے بڑا نقصان ہمارے بچوں کو ہو رہا ہے جو انگلش تو سمجھ جاتے ہیں لیکن اردو سمجھنا اور لکھنا ان کے لئے مشکل ہے
    تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر جتنی توجہ اس کے اوپر دینے کی ضرورت تھی ہم نے اسے اتنا ہی نظر انداز کر دیا ہے پورے ملک کو یکساں اور اور معیاری نصاب تعلیم دینے میں کوتاہی کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہمارا نظام تعلیم دن بدن کمزور ہو رہا ہے پورے ملک کو یکساں تعلیم دینے کے فقدان کی وجہ سے بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں امیر طبقہ اپنے پیسے کے بل بوتے پر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوا رہا ہے لیکن غریب اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوانے کے صرف خواب دیکھ رہا ہے جس کی تعبیر ہمارے لئے شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں اسی وجہ سے یہ غریب، غربت کی چکی میں پستا رہتا ہے اور  امیر دن بدن امیر سے امیر تر ہوجاتا ہے ہمارے ملک میں ذہین لوگوں کی کمی نہیں لیکن یکساں تعلیمی نصاب نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے غریب طبقے کے لوگ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا اور روزبروز ہمارے ملک میں بے روزگاری کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں 
    غریب کے بچے تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے کم عمری سے ہی رزق کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں کہ بچے تو کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں اور جب یہی بچے کسی ورکشاپ کسی فٹ پاتھ کسی بھی پبلک پلیس پر اپنے چھوٹے چھوٹے ننھے ہاتھوں سے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو سوچیے اس ملک کی ترقی کیسے ممکن ہے
    اگر آج ہم اپنے بچوں کے تعلیمی مسائل کو حل کریں گے اور ہم اپنے تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے کام کرنا شروع کر دیں تو کل یہی بچے ہمارے لئے فخر کا باعث بنیں گے ہمارے ملک کا بہتر مستقبل ہوں گے
    ہمارے ملک میں پچھلے کچھ سالوں سے کالجز اور یونیورسٹیز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے نظام تعلیم میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دے رہی یہ ہمارے لئے افسوس کا مقام ہے کہ طالبعلموں نے ان درسگاہوں کو سیاست کا اڈہ بنا لیا ہے اساتذہ کی عزت نہیں کی جاتی 
    یونیورسٹی میں دیکھا جائے تو یونیورسٹیز تو فیشن کا گھر بنتی جارہی ہیں جیسے لوگ پڑھنے کم اور فیشن شو کرنے زیادہ آتے ہیں یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود ہماری ہائر ایجوکیشن سوسائٹی اس عمل کے روک تھام کے لئے کوشش نہیں کر رہی جس کی وجہ سے ہمارا نوجوان طبقہ پڑھائی سے دور ہوتا جا رہا ہے وہ پڑھنے کم اور اپنا وقت گذارنے کے لیے زیادہ آتے ہیں
    ایک طرف تو تعلیمی معیار خراب ہے اور دوسری طرف قابل اساتذہ کی بے حد کمی ہے
    تعلیمی معیار کو بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے نہ صرف لڑکوں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی زور دینا چاہیے
    ایسے علاقوں میں قابل اساتذہ کی ڈیوٹی لگانی چاہیے تاکہ وہ اپنا کام اچھے سے سر انجام دے سکیں
    باربار تعلیمی نصاب کو بدلنے کے بجائے سب کے لئے یکساں اور ایک جیسا نصاب رکھنا چاہیے
    اردو ہماری قومی زبان ہے اور ہمیں اردو کو لازمی قرار دینا چاہیے
    ہمارے ملک کی ناقص پالیسیاں تعلیمی پسماندگی کی اصل وجہ ہیں
    بین الاقوامی اداروں کی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی بہت کم ہے گویا ہم آزادی سے لے کر آج تک قوم کو بہتر نظام تعلیم دے ہی نہیں سکے ایسا تعلیمی نظام جس کی وجہ سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا اور یہ ہمارے لیے بہت افسوس ناک بات ہے