افسوس ناک واقعہ

  •  
     
     
    2017 میں وہ ,22ستمبر کا دن میرے زندگی کا اب تک میں سے وہ سخت دن تھا۔ اس سے پہلے ایک دن میں بہت خوش تھا کہ یونیورسٹی جاؤ گا۔ آخر میں تین مہینے کے بعد یونیورسٹی آرہا تھا۔ 22 ستمبر کو جب میں گھر سے نکال رہا تھا۔ تو اُس وقت تھوڑا سا خفا بھی تھا۔ کہ میں اپنے خاندان سے مطلب میں اپنے امی , ابو , بہین اور بھائ سے  دور جس رہا تھا۔ چار پانچ مہینوں کے لے۔ ارو مجھے اپنے تایا ابو کو بھی لگا تھا۔ کہ میں پریشان ہو۔آخرکار جب میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔یونیورسٹی آنے کے لئے خوش بھی تھا۔لیکن دوسری طرف خفا تھا کہ ا اپنے گھر والوں سے چھوڑ کے جا رہا تھا۔ جب میں راولپنڈی آگیا۔میں نے اپنے ہوسٹل فون کیا کہ میں چار بجے تک ہوسٹل آجاؤ گا۔ میں پیر بدائی موڑ پر گاڑی سے اترا۔ وہاں سے میں فلین کوچ میں بیٹھا۔ قاسم مرکیٹ سے آگے میں فلین کوچ سے اترا۔ میرے پاس ایک ہاتھ میں لپٹا ہوں اور دوسرے ہاتھ میں بڑا سا بیگ تھا۔ (امی نے کہا تھا پہنچتے ہی مجھے فون کرلینا) میں نے موبائل اپنے جیب سے نکالا۔ میں نے ایک سائیڈ کی روڈ کراس کر لیں۔ ایک روڑ کراس کرنے کے بعد ویسے میں نے کہہ دیا کہ اللہ کا شکر ہے۔ یہاں پہ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں نے ایک سائڈ روڈ کراس کردیا۔ میں سوچ رہا تھا۔ دوسرا روڈ کراس کر لونگا تو میں امی کو فون کروں گا کہ میں ہاسٹل پہنچ گیا۔ جب میں روڈ کراس کرنے کے لیے آگے چلا گیا۔میرا ایکسیڈنٹ ہوا۔ تو وہاں سے ایک فوج کی ڈیفنڈر گاڑی آگئی انہوں نے مجھے گاڑی کے ساتھ مارا۔ میں پانچ چھ گز آگے پہنچ گیا تھا۔ میرا موبائل تیسرے لائن میں پڑا تھا۔ اور میرے جوتوں کا پتہ ہی نہیں چلا کہاں چلے گئے۔میرا ایک بیک فٹ پاتھ تک پہنچ گیا تھا۔ اور لیپ ٹاپ کاجو بیگ تھا۔ اور لیپ ٹاپ کا بیگ دوسرے لائن میں پڑا تھا۔اور میرے اوپر ٹیکسی آنے والی تھیں تو میں نے اپنے آپ کو ایک سائیڈ پے کردیا مطلب فٹ پاتھ میں نے اپنے آپ کو ڈال دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں اور یہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ جسم میں اس وقت درد تھا پر زیادہ نہیں۔میں اونچی اونچی آواز کر رہا تھا۔ وہاں پہ مجھے اپنی ماں کی بہت یاد آئی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں مر جاؤں گا۔ روڈ بند ہوگیا تھا۔ ایک گاڑی سے دو لڑکیاں میری طرف آئے وہ بھی یونیورسٹی کی تھی۔ انہوں نے میرا موبائل بیگ مجھے دے دے اور مجھے کہنے لگے او آپکو ہم ہسپتال لے کے جاتے ہیں۔ ان لڑکیوں کو میں نے منع تو نہیں کیا۔اُس وقت میں یہ سوچ رہا تھا۔ اگر میں لڑکیوں کے ساتھ چلا گیا۔تو یہ فوج والے بھاگ جائینگے مجھے سے ۔فوج والے میرے پاس آئی۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ کی غلطی ہیں۔وہاں سے ٹیکسی والے نے فوج والوں کو کہا اس کی کوئی غلطی نہیں تمہاری غلطی ہیں۔ کیونکہ ٹیکسی فوج کے گاڑی سے آگے تھا فوج والی گاڑی نے اورٹھک کیا میرے اُوپر۔ پھر فوج والوں نے  مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا دیا۔ مجھے کہنے لگے کہ کونسی ہسپتال آپ کو ہم لے جائیں۔ میں نے کہہ دیا مجھے پتا نہیں۔ تو اس وقت میں نے اپنے دوست کو فون کیا۔ کہ آپ جلد ہسپتال آجاؤ ۔اس نے کہا کون سے ہسپتال۔ میں نے کہا کہ سی ایم ایچ ۔دوست سے بات کی۔ پھر پانچ منٹ بعد اور خراب ہوۓ ۔ اور میرا زبان توتلا ہوگیا ہوں۔ مجھے لگا کہ مجھے اپنے گھر والوں کو کہہ دینا چاہیے کہ میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ تو اس وقت میں نے اپنی کزن کو فون کیا۔ آرمی والو کو دیکھ کر۔ مجھے کزن کا ایک دوست یاد آیا۔ کیونکہ وہ میجر تھا۔ میں نے کہہ دیا کہ اس کو کہوں کے وہ آجاے۔جسم میں بہت سخت درد ہو رہی تھی۔ یہ بات کہنے کے بعد میں سیٹ سے گر گیا۔  اور میں بھی بےہوش ہوگیا۔
    بےہوش ہونے سے پہلے  کزن کو بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا بول رہا ہوں۔ تو میں نے موبائل
    آرمی والوں کو دی۔ کہ اپنے کزن سے بات کرلوں۔
    تین گھنٹوں کے بعد سے میں نے دیکھا کہ میں ہوسپٹل میں ہوں اور میرا دوست میرے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میرا کزن بھی آئے تھا۔ کزن کے ساتھ دوست بھی آئے ہوئے تھے۔ مجھے بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔جب آنکھ کھول رہا تھا۔ مجھے وہی ایکسیڈنٹ نظر آ رہی تھی۔ وہاں سے جب میں نے اپنے دوست کو دیکھنا میں بہت خوش ہوگیا۔ پھر اس کے بعد مجھے شاید میرا دوست گھر چلا گیا تھا۔ وہ گھر گیا تو سی ایم ایچ ہسپتال سے مجھے ٹرانسفر کیا ایم ایچ ہاسپٹل ۔جب میں ایم ایچ ہوسپٹل میں تھا۔ میرے خیال سے  جب میں وہاں تھا تو میرے دوست نے فون کیا موبائل میرا کزن کے پاس تھا کزن نے مجھے کہا کہ یہ کون ہے میرا دوست ہے۔ پھر کزن نے میرے دوست سے بات کی۔ شاید دوست انا چاہتا تھا
    کزن نے اسے کہا کے اپنا نہ آؤ اب ٹھیک ہے ہم اس سے گھر لے کے جا رہے ہیں۔ رات 2 بجے ہم ہوسپٹل سے فارغ ہوئے۔ ہم پہ پشاور چلے گئے۔ رات ہم نے کزن کے گھر گزاری۔ پھر دوپہر 2 بجے تقریبا ہم اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔ جب میں گھر کے اندر چلا گیا۔ سارے گھر والے ایک سائیڈ کھڑے تھے۔ مجھے کزن نے ایک طرف سے پکڑا تھا۔ تو اس طرح میں اپنے کمرے چلا گیا۔ اکسیڈنٹ کی دوسرے دن شادی بھی تھی ہمارے خاندان میں کسی کی۔10 بجے سے پہلے باقی گھر والوں کو شادی بیچ دیا گیا تھا۔  دس بجے کے بعد انکل نے میرے امی اور ایک بہن کو بتایا۔ جب باقی شادی میں گئے تھے۔کزن کے گھر والے بھی کچھ گئے تھے شادی میں اور کچھ نہیں۔اس لیے وہ گئے تھے کہ میری بہنوں کو شک نہ ہوجائے کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ جب وہ سارے شادی میں چلے گئے۔ اس کے بعد گھر میں میرے دوسرے کزن نے میرے امی اور ایک بہن جو کہ گرمی تھی ان کو کہا کے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ میری امی بہن بہت پریشان ہو گئی تھی۔ بہن سے میری بات ہوئی پھر صبح کے وقت تقریبا کے میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہ ہوں۔ جب میں گھر چلا گیا انھوں نے دیکھا مجھے کے جسم کے اوپر پٹی لگی ہوئی تھیں بہت زیادہ تو وہ رو رہی تھی۔ اس طرح جو میرے باقی بہنیں شادی سے واپس آئے انہیں پتا بھی نہیں تھا جب انھوں نے مجھے اچانک چرپائیں پر دیکھا سب رونے لگے اور کہنے لگی یہ کیا ہوا جب ان کو کہا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا کل۔ تقریبا بیس تیس منٹ کو ساری رو رہی تھی۔ اس کے بعد جب میں نے ان کی طرف دیکھا میں نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔ وہ سارے میرے پاس بیٹھ گئی۔ صرف مجھے دیکھ رہی تھے۔ بس میں سو گیا۔ پھر تقریبا رات کے دس بجے ابو کو پتہ چلا کہ میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ تو ابو نے کزن کو کال کی کہ میرا بیٹا کیسا ہے۔ میں ٹھیک نہیں تھا بات ابو سے نہیں کر سکتا تھا میں بہت تکلیف میں تھا۔ لیکن مجھے امی نے کہا کے اپنے ابو کے ساتھ اچھی طرح بات کر لو تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔کیونکہ ابو کا بھی شوگر تھا۔ تو میں نے ابو سے بات کی اس کو تسلی ہوئی کہ کہ میں ٹھیک ہوں۔ اس طرح لوگوں کا آنا جانا شروع ہوا تقریبا دس دن میں چرھپائی پر تھا دس دن تو می چرھپائی سے اٹھ نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ قمر کی ہڈی ایک جگہ سے دوسری جگہ  ہوگئی تھی۔ بازو بھی ٹوٹ گیا تھا۔
    ۔۔ بس اب اللہ کا شکر ہے کہ میں زندہ سلامت ہو