غَمگین واقعہ

  • ایک سیدھا سادہ لڑکا جو کہ بہت محنت کش اور بہت قابل تھا اپنے ماں باپ کی بہت خدمت کیا کرتا تھا وہ اپنے شہر میں ایک ہی ایسا لڑکا تھا جو کہ کا خیال رکھتا تھا ماشاءاللہ سے وہ پڑھائی میں بھی بہت اچھا تھا دین اور دنیا دونوں تعلیموں میں بہت اچھا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے والدین کے بہت خدمت کیا کرتا تھا اس کی ماں کو فالج ہو گیا تھا اس کی ماں بہت معذور ہو گئی تھی وہ چارپائی سے اٹھ نہیں سکتی تھی اور اس کا باپ وہ بھی بہت بوڑھا اور ضعیف سا تھا طلحہ کا ابو پتھروں کا کام کیا کرتا تھا پتھروں کو ایک شاپ میں بنا لیا کرتا تھا اسی دوران پتھر سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا اس کے آنکھ پر لگا اسی طرح اس کی ایک آنکھ بہت خراب ہو گئی اور اس کی نظر چلی گئی اور دوسری آنکھ سے وہ تھوڑا بہت دیکھ سکتا ہے اور اس کو سننے کے بھی بیماری ہے کہ وہ اسی طرح نہیں سن سکتا۔اس طرح طلحہ کے ایک چھوٹا بھائی اور ایک چھوٹی بہن بھی ہیں وہ بھی طلحہ کی طرف بہت شریف ہیں طلحہ نے اپنے ایف سی کمپلیٹ کی بہت ذہین انسان تھا گاؤں میں جو اس کے گھر کے اردگرد لوگ تھے اس سے بہت جلتے تھے کیونکہ صرف اس نے ایف سی کی تھی اس کے پاس بہت نالج تھا کیونکہ ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ یہ یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیتا اس نے اپنے شہر میں سکول میں ٹیچنگ شروع کی اس طرح یہ دو سال لڑکوں کو پڑھاتا رہا ۔ یہ روزانہ ہر دن پوپی کے گھر چلا جاتا تھا کیونکہ پھوپھی کا بیٹا اس کا بہترین دوست تھا اس کے ساتھ بہت گپشپ اور ساتھ میں کھیلتے تھے اس طرح جب رمضان کا مہینہ آیا یہ رات کو پھر جایا کرتا تھا تو گاؤں میں کچھ لوگوں نے اسے نوٹ کیا تھا کہ یہ رات کو اس وقت پھوپھی کے گھر جاتا ہے کیونکہ یہ بہت ذہین انسان تھا گاؤں والے اس کی بھلائی نہیں چاہتے تھے اس طرح ایک رات کو پھوپھی کے گھر سے یہ واپس گھر چلا آیا سحری کے ٹایم اور اس نے امی کو کہا کہ میں باہر گھر سے جاتا ہوں پھر ابھی واپس آجاتا ہوں تو یہ جب باہر چلا گیا سحری بند ہو گئی تھی تو اس کی امی پریشان ہو گی کہ بیٹا اب تک کیوں نہیں آیا اس نے اپنے چھوٹے بیٹے کو کہا کہ بیٹا آپ باہر چلو دیکھو کہ آپ کا بڑا بھائی کیوں نہیں آیا بہن بن کر میں پریشان ہو گئی اس کی کہ بھائی تو باہر سے بہت جلدی آیا کرتا تھا جب اس کا چھوٹا بھائی باہر چلا گیا اس نے دیکھا کہ بھائی کے ہاتھ میں تو ایک لوٹا  تھا اور وہ سوچ میں رہے گی یہ لوٹا یہاں پہ رکھا ہوا ہے اور اور بھائی نہیں ہے۔وہ بچہ گھر چلا آیا اس نے گھر میں یہ کہہ دیا کہ لوٹا تو باہر رکھا تھا لیکن بائیں نہیں تھا مجھے لگتا ہے کہ وہ مسجد چلا گیا ہوں بتائے بغیر کیسے جاسکتا ہے بیٹا وہ تو مجھ سے مل کے جاتا ہے اس کے امی نے کہا کیونکہ صبح کے ساتھ آٹھ بج گئے تھے اس کا کوئی پتہ نہیں گھر واپس نہیں آیا انہوں نے اس کی پھوپھی کو فون کیا کہ اب تک بیٹا نہیں آیا میرا آپ لوگ کچھ کرو تو سب لوگوں نے ڈھونڈنا شروع کیا ایک دن بعد پھر لوگوں نے اسے ڈھونڈ ہی لیا آخر۔نہ تو کہیں وہ میدان میں ملا اور نہ کہ تو میں ملا بلکہ وہ 1 چھوٹا موٹا سا پہاڑ تا اس میں ملا ایک درخت کے نیچے کسی نے قتل کیا تھا رمضان کے مہینے میں اسکی کپڑے پھٹے ہوئے تھے اس کی باڈی کی اوپر سفید چادر رکھا ہوا تھا اس کو چوکوں کے ساتھ شہید کیا گیا تھا بہت ظلم ک ساتھ اس کو مارا گیا تھا اس دن ڈھونڈنے سے پہلے صبح کے وقت بارش بھی ہو گیا تھی۔اس طرح موت کوئی دشمن کو بھی نہیں دیتا جس طرح اس بچارے لڑکے کو دیا گیا تھا نہ جانے اس کے گھر والوں پر کیا بیت رہی ہوگی ایک تو پہلے سے بہت غریب لوگ تھے اور اوپر سے یہ ہوگیا اس لوگوں کے ساتھ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں سچے ،قابل اور ایماندار انسان کو زندہ نہیں چھوڑتے۔اس بیچارے نے آخر کیا بگاڑا تھا ان لوگوں کا کیا انہوں نے اس کے ساتھ اتنی سخت زیادتی کی اگر وہ قابل تھا اس نے محنت کیا تھا نہ کہ آپ لوگوں سے کچھ لیا تھا اس نے اپنی مدد اپ کر کے اس مقام تک پہنچ گیا تھا میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ بس کرو لوگو کیوں دوسروں کے پیچھے پڑے ہو اللہ کا خوف کرو یہ کام کرنے سے پہلے ذرا سا بھی اس اللہ کا خوف نہیں آیا کہ یہ بھی انسان ہے یہ بھی اللہ تعالی کا مخلوق ہے بس اللہ تعالی ان کو توفیق نصیب کر دے جنہوں نے یہ کام کیا ہے اور طلحہ کے گھر والوں کو اطمینانی سکون نصیب ہو اللہ ان کے گھر والوں کو ہمیشہ خوش رکھے اللہ ان کے گھر والوں پر رحم فرمائے..! آمین