ووٹ اور تعلیم دونوں کو عزت دو

  •  عنوان

                         ووٹ اور تعلیم دونوں کو عزت دو

     

    ہمارے ملک پاکستان میں آج کل سب کی زبانوں پر ایک ہی بات ہے وہ ہے الیکشن۔ اس دور میں سیاست کرنا ہر بچے کو آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کیا چیز اچھی ہے اور کیا نہیں۔ اس لیے ہمارے ملک میں تبدیلی آرہی ہے۔ اب ہر جگہ پر اچھی چیز کے ساتھ ساتھ بری چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ ۲۵ جولائی کو الیکشن ہوئے اوراس میں ایک جماعت جیت کر سامنے آئی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ اب ہر پاکستانی اپنا حق لینا جانتا ہے کیونکہ اُس کو شعور آگیا ہے  کے اس ملک میں اس کا بھی حصہ ہے ۔ اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔لیکن پاکستان کے وہ علاقہ جہاں پر تعلیم یافتہ لوگ نہیں ہیں اور وہ لوگ ووٹ کاسٹ نہیں کرتے جو کے ایک غلط بات ہے۔

    غلط بات اس طرح سے کے ووٹ نہیں دیتے پھر وہ لوگ حکمرانوں سے گلے شکوے کرتے ہیں۔ 

    پاکستان کے بہت سے علاقہ ایسے ہیں جہاں پر مرد  ووٹ کاسٹ کرتے ہیں لیکن وہاں پر عورت کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

     

     

    مفادی ووٹ۔

     

    ہمارے ملک پاکستان میں  اب بھی بہت سی جگیں ہیں جہاں پر یہی مسلہ ہے کے وہاں کے لوگ من پسند لوگوں کو ووٹ کاسٹ کرتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کے وہ کس کو ووٹ کاسٹ کی جا رہی ہے وہ کون ہے؟۔ کیا اس ملک اور قوم کے لیے اچھا ثابت ہوگا؟۔لیکن وہ       یہ باتیں سوچے بغیر ہی ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ پانچ سال وہ امیدوار ناکوئی کام کرتا ہے اور نا ہی کسی کی بات سُنتا ہے اور غلط بات یہ کے عوام  اگلے الیکشن میں پھر سے اُسی کو ووٹ ڈالیں گے

     

    وجہ۔                                                         

     

    اس کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کے تعلم کی کمی کی وجہ سے لوگوں میں شعور نہیں ہے۔ یہ سب تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہے۔ ووٹ دینے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ انسان ہی اچھے امیدوار کو ووٹ دے گا کیونکہ یہ ایک دو دن کا کھیل نہیں آپ کے ایک ووٹ سے ہمارے ملک پاکستان کی اور اس کی قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ووٹ دینا ایک شہادت ہے اور ووٹ دینے والا جس کو ووٹ دے رہا ہے اُس کو لازمی اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ کہ وہ جس کو ووٹ دے رہا ہے  وہ امیدوار قوم و ملک کے لیے مفید ہے۔ اس لیے ووٹ دینے والے کو  سوچ کر ووٹ دینی چاہیے۔ اگر ووٹ دینے والا اپنے مفاد کے لیے کسی ایسے امیدوار کو ووٹ دے گا جو اس کا حقدار نہیں تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔ اگر ووٹ دینے والا صرف اور صرف برادری یا پارٹی کو سپورٹ کر رہا ہے تو  یہ بھی گناہ ہے اور مستقبل کے لیے خطرہ بھی ہے۔  

    وہ اپنے  حق کو خود سے محروم کر دیتے  ہیں۔                               اب سوچنا اس بات کو ہے کہ اس غلط چیز کو ملک پاکستان سے کیسے ختم کیا جا سکے۔ کیونکہ آج تک جو کچھ بھی ہوا ہے اُس میں ناکامی ہوئی ہے اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں۔ اب ہمیں ایسے کام کرنے ہوں گے اور ایسے لوگوں کا ساتھ دینا ہوگا جو اس مسلہ کا حل نکال سکتے ہو۔ ووٹ دینا سب کا فرض ہے اس کو ایسا سمجھایا   جائے کہ جو ووٹ نہیں دیتا وہ اپنے حق سے محروم ہوتا  ہے اور ساتھ ساتھ گناہ بھی اپنی زمے لے لیتا ہے۔ ایسی ٹیم کی جلد سے جلد ضرورت ہے جو اس مسلہ کو حل کرے  اور ووٹ کے ساتھ ساتھ تعلیم کی طرف بھی زور دے۔ کیونکہ تعلیم یافتہ انسان   اپنا حق لینا جانتا ہے کہ وہ اس کو کس طرح سے استعمال کرے گا(ووٹ)۔ جیسے جیسے ٹایم گزر رہا ہے   تو دنیا تیز ہو رہی ہے لیکن افسوس پاکستان میں اسکول کالج ہونے کے ساتھ ساتھ لوگ تعلیم میں پیچھے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر تحریک میں عورت کا ہاتھ ہے۔ اُس کی جدوجہد سے لے کر اُس کی جیت تک۔ آگر عورت کے پاس تعلیم ہوگی تو وہ گھر بھی کامیاب ہوگا۔اس لیے تعلیم یافتہ عورت اس معاشرے میں تبدیلی لا سکتی ہے ووٹ کا استعمال کر کے۔ جو لوگ ووٹ کاسٹ نہیں کرتے اُن کی وجہ سے یا پھر وہ لوگ جو پیسے لے کر اپنا ضمیر بیچ دیتے ہیں اور بعد میں حکمرانوں سے گلے شکوے کرتے ہیں ۔عورت نے اسلام کے لیے بھی بہت کچھ کیا ہے اور اس ملک پاکستان کو حاصل کرنے کے کیے بھی فاطمہ جناح نے قائد کا ساتھ دیا اور ہم نے یہ وطن حاصل کیا۔ ووٹ کا غلط استعمال سے ہمارے آنے والے دن تاریخی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسلام کہتا ہے جب تم ناسمجھ لوگوں کو خود پر مسلت کرلو تو سمجھ جاو کے قیامت نزدیک ہے۔ اور وہ قومیں کبھی کامیاب نہیں ہوتی جو اپنا  زضمیر کا سودا کرتی ہیں۔ وہ قوم ہمیشہ تباہ ہوتی ہیں ۔  ووٹ ہمارا فرض ہے اور فر ض کو ادا کرنا ضروری ہے۔

     

     

    مسئلہ  کا حل۔

    ان اب باتوں کا حل یہ ہے کے ان اب کے لے مل کر کام کرنا ہوگا۔ گلی گلی جا کر تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا جائے اور  ووٹ کی اہمیت کا بتایا جائے۔ بتایا جائے ہے ہی ووٹ ہماری طاقت ہے اور اس کی وجہ سے ہم لوگ تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ہر جگہ جا کر ووٹ کی اہمیت کا بتانا ہوگا ارو ساتھ ہی بتانا ہوگا کے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا  ضروری ہے نا صرف اس ملک و قوم کے لیے بلکہ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل لے لیے بھی کیونکہ ووٹ ہی وہ طاقت ہے جس سے انسان تبدیلی لاسکتا ہے۔ ان کو یاد دلایا جائے کے اسلام میں کس طرح عورت نے اپنا کردار  نبایا اور کس طرح سے اس ملک پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے قائداعظم کے ساتھ قدم با قدم ہو کر ساتھ دیا۔ مشہور قول ہے کہ جہاں پر عورت تعلیم یافتہ ہوگی وہ معاشرہ کبھی بھی تباہ نہیں ہوگا۔

     

    اب مسئلہ یہ ہے کے جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں لیکن وہی لوگ اپنے من پسند لوگوں کو ووٹ دے رہی ہیں۔ جو کے غلط بات ہے۔ ان لوگوں کو بھی سمجھانے کی ضرورت ہے اور یہ کام سب نے مل کر کرنا ہوگا تب ہی کچھ حاصل ہوگا۔ اُن کے ذہین میں یہ بات ڈالنی ہے کہ یہ سب غلط ہے پارٹی کو یہ کسی ایک بندے کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک اور ملک کی قوم کی عزت کا سوال ہے۔ اس لیے اُس امیدوار کو ووٹ کاسٹ کی جائے جو اس  کےقابل ہو۔ جب انسان تعلیم سے دور رہتا ہے تو وہ کسی کی بات میں آکر کوئی بی کام کرلیتا ہے۔ اُس میں اچھے بُرے کی تمیز نہیں ہوتی کیا اچھا ہے اور کیا بُرا۔ اس لیے تعلیم کے لیے ہم سب کو ایک سائے کے نیچے رھ کر کام کرنا ہوگا اور تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ جہالت سے اس پاک وطن کو پاک کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس ملک کی حفاظت ہمارا فرض اور فرض ادا  نا کرنے سے گناہ ہوتا ہے۔ تعلیمی ادروں میں دین کی تعلیم بھی ضروری کردی جائے اس سے ہمارے لوگوں کو پتا چلے کے ووٹ کا تعلق بھی اسلام سے ہے۔ کیونکہ ووٹ کا غلط استعمال کرنے اے آپ کو گناہ ہوگا اور آپ روز محشر جواب دے ہونگے کے تم نے ووٹ کس کو دیا ؟۔کیا اس امیدارو کو ووٹ تو نہیں دیا تھا جو اس کا مستحق بھی نا تھا؟۔ اس لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بتایا جائے کے اس ووٹ کاسٹ کرنا کا تعلق دین اسلام سے بھی  ہے اورہم سب نے یہ وطن پاکستان دین اسلام کے نام پر بنایا۔۔ یہ ہم سب کا وطن ہے اس کی حفاظت ہم سب کی زمےداری ہے۔ کہ یہ ملک ہم نے جان دے کر مشکل لمحات کےبعد حاصل کیا اس لیے ہم سب کو اس کی حفاظت کرنی ہے۔ اس لیے ووٹ کا استعمال اچھے سے اور سوچ سمجھ کر کرنا چاہے کیونکہ خدا نا کرے آپ کے کسی ایک غلط ووٹ کاسٹ سے ہمارا دشمن ہی ہم پر حکومت کرنے لگ جائے اور ہماری ملک حاصل کرنے کی محنت رائیگا چلی جائے۔ ذہین لوگ کہا کرتے ہیں کے وقت ایک قیمتی چیز ہے اس کو ظائع نا کرو کیونکہ گیا وقت واپس نہیں آتا۔  یہ بات حقیقت ہے گیا وقت کبھی بھی واپس نہیں آیا۔ اس لیے وقت کو ظائع کیے بغیر سب کو کام کرنا ہوگا اس ملک پاکستان کے لیے ہم سب کو ایک جگہ اکٹھا ہو کر اس وطن کے لوگوں میں شعور لانا ہوگا۔ اُن کو بتانا ہوگا کہ اُن کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ ہم سب کو خدا نے آزاد پیدا کیا ہے اور ہمارے ملک کا آئین بھی ہمیں آزادے رائے کا حق دیتا ہے۔ اس لیے کسی کی غلامی میں نا رہا جائے آزادی کی زندگی گزاری جائے۔ ایسی زندگی جس سے ملک و قوم کو فائدہ ہو۔جس سے اس ملک کا نام روشن ہو۔ اور یہ سب ہم نے مل کر کرنا ہے اس ملک کو بلندی پر لےکرجانا ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والا ملک پاکستان میں اسلام نظام نافظ کرنا ہے اور اس کو ہر ادارہ میں عام کرنا ہے۔

     

                                   ختم شد