ماحول کی آلودگی

  •  

    ماحول کی آلودگی

    آج کل کے دور میں انسانوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں آلوگی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس دور میں ان کی ضروریات بہت زیادہ ہوگی ہیں۔ انسانوں نے فیکڑیوں،کارخانوں،جہازوں،گاڑیوں وغیرہ میں ایندھن کابےجا اور فضول استعمال ہمارے معاشرے میں آلودگی کا سبب بنتی ہے۔ اس سے موسموں میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان کی بھی یہی صورتحال ہے موسم گرما کا دورانہ زیادہ ہوگیا ہے۔ موسم میں تبدیلی آرہی ہے۔ پہاڑوں پر سے برف پگھلنے لگ گی ہے جس کی وجہ سے سمندری طوفانوں کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے اور اس سے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ اللّٰہ پاک نے اس ملک کو اس دنیا کو خوبصورت بنایا ہے سرسبز بنایا ہے۔ ہمیں اس کو اور بھی خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے۔ پاکستان کی نئی حکومت کی یہ بات اچھی ہے کہ انہوں نے شروع سن سے ہی درخت لگانے کی مہم شروع کردی ہے جو کے ایک اچھی بات ہے اس سے ملک کی فضاء خوشگور  ہوتی ہے۔ اس سے ماحول خوشگوار ہوتا ہے اور درخت کاربنڈائی آکسائیڈ کو جذب کرکے ماحول کو صاف رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بارشیں بھی ہوتی ہیں۔ جس سے ماحول کی گندگی دور ہوتی ہے اور ہمارے ملک میں ان درختوں کی بہت ضرورت ہے.  
    انسان فکڑیاں لگا کر خوش ہوتا ہے۔ یہ کوئی بُری بات نہیں نہ کوئی برا کام لیکن مسئلہ آلودگی کا ہے۔ ان فیکڑیوں سے نکلنے والا دھواں ماحول کو گندا کرتا ہے اور ان کی  کی وجہ سے بیماریاں زیادہ ہوجاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو گند ہوتا ہے اُس کو دریا اورندیوں میں بہا دیا جاتا ہے جس سے مذید بیماریوں کا ڈر ہوتا ہے۔ کیونکہ ملک پاکستان میں اس کا کوئی اور انتظام بھی نہیں ہے پاکستان کا پانی ان کافی گندا ہوگیاہے جس سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں اور ہر سال ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ کیونکہ پانی گندا ہے اس سے خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔جیسے کہ کینسر اور اس جیسی دوسری خطرناک بیماریاں جس سے انسان کی زندگی خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان ترقی کرے کیونکہ وہ اُس کا حق ہے اور کوئی بھی کسی کا حق نہیں چھین سکتا اس لیے محنت کرے اور ترقی کرے لیکن ایسی ترقی کا کیا فائدہ جس سے اُس کے اپنے لوگ بیمار ہورہے ہوں جیسے لوگ فیکڑیاں لگادیتے ہیں اور دھواں فیضاء گندی کرتا ہے اس سے ہمارے ملک کو نقصان ہے۔ 
    پاکستان کے پاس اللّٰہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے اس لیے ہمارا فرض ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے۔ ہم سب مسلمان ہیں خدا کا شکر ہے اور ہمارا اسلام ہمیں صفائی کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اس ملک کو صاف رکھنا ہمارا فرض ہے۔ کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے۔
    پاکستان کے پاس کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے اس لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی میں ایسے اقدام کرنے کی ضرورت ہے جس سے اس مسئلہ کا حل نکل آئے۔


    جنگلات
    جنگلات ایک قدرتی تحفہ ہے۔ پاکستان میں نئی حکومت نے کام شروع کردیا ہے۔ جو کے اچھی بات ہے کیونکہ جنگلات سے ماحول  اچھا ہوتا ہے۔ جن ممالک میں جنگلات نہیں وہاں کی ہوا خوشگوار نہیں ہوتی ہے۔ پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ چاراعشاریہ دوچار لین سیکڑ ہے۔ جو کہ پاکستان کہ کل رقبے کا تقریبًا چار اعشاریہ آٹھ فیصد ہے۔ لیکن کسی بھی مکل میں جنگلات کا رقبہ ۲۵ فیصد ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں ماضی میں دیکھا جائے تو پاکستان کی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ بلکہ سب حکمرانوں نے لوٹا ہے اور ان جنگلات میں درختوں کو کاٹ کر ان کی لکڑی کی سمگلنگ کی اور یہ بھی اپنا فائدہ حاصل کیا۔ جو کہ شرمناک بات ہے کہ حکمران آج کل درخت تک نہیں چھوڑ رہے۔جنگلات کی کٹائی کا نقصان ماحول کو آلودہ کرنا ہے۔ اس سی اور بھی نقصان ہوتے ہیں جیسا کہ بارشوں میں کمی، سیلاب، گلوبل وار منگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جنگلات اور شجرکاری کی اہمیت اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مہم چلانا ہوگی۔ کیونکہ جنگلات ایک خدا کا تحفہ ہے۔ اور ہمیں اس انمول تحفہ کی قد کرنے کی ضرورت ہے۔ اقر مہم کے ذریعے دوسروں کو بھی اس کی اہمیت یاد دلونی ہوگی۔ اس لیے شجرکاری مہم میں حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔جگہ جگہ کوڑاکرکٹ ہوتا ہے گلی گلی میں نالیوں میں گندگی ہوتی ہے جس میں چھوٹے بچے کھیلتے ہیں اور بیمار ہوتے ہیں اور یہ بیماریاں پھیل کر ایک دوسرے میں جاتی ہیں جو کہ خطرناک بات ہے۔

    جنگلات کےفوائد

    درخت یا جنگلات سے ملک کو فائدہ ہے ماحول صاف ہوگا تو ہر شہری صحتیاب ہوگیں اس کے ساتھ ساتھ نلک میں پانی کی کمی ہے جو ہے وہ گندا پانی ہے اس لیے درختوں کے ذریعے بارش ہوگی جوکہ اس وقت کی ضرورت ہے۔
    •جنگلات گھر کے فرنیچر بنانے کے کام بھی آتے ہیں•جنگلات سے بے شمار اہم میڑی حاصل کیے جاتے ہیں جن میں تیل کی ساتھ ساتھ گوند وغیرہ کا نام بھی آتاہے۔ •جنگلات انسانوں کے لیے مفید ہیں۔ •کاغذ لکڑی سے بنایاجاتاہے جو کے جنگلات اے ہی حاصل ہوتی ہے•ہوا کو آبی بخارات بان کر جنگلات بارش ہونے میں مدد دیتے ہیں•جنگلات پرندوں کی پناہ گاہ بھی ہے۔•درخت سے ہی انسان پھل حاصل کرتے ہیں 
    اس کا مطلب یہ ہے درختوں اور جنگلات کا تعلوق  انسان سے ہی ہے ہمارے ماحول کی ہوا بھی اچھی ہوگی۔ پاکستان میں درختوں کی ضرورت ہے اس لیے جلدی سے جلدی مہم چلانی ہوگی جس میں درخت لگائے جائیں گے اُس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو آگاہی دینی ہوگی کہ اس کی کیا اہمیت ہے کیوں ہمارے ملک پاکستان میں درخت ضروری ہیں جس سے پاکستان آب و ہوا اچھی ہوگیدرخت خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں جنگلات اور درخت کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ دنیا بھر میں ان کی اہمیت کا اندازا ہے لیکن ہمارے ملک پاکستان میں کسی بھی چیز کا کوئی شیڈول نہیں۔ ہمارے ملک میں سایست کا قصور ہے جہان بھی دیکھو سیاست کی وجہ سے ہمیں مار پھڑتی ہے۔ اب بات ہے درخت کی جس میں بھی ہمارے حکمران سمگلنگ کرتے ہیں جن کو شرم نہیں آتی اور درخت کی لکڑی بیچ کر پیسے کھا لیتے ہیں۔درخت کسی بھی ملک میں ہیرے کی مانند ہیں۔ جس کو کھویا نہیں جا سکتا۔ اس کی حفاظ کرنی ہوگی اور ان درختوں میں مذید اضافہ کرنا ہوگا۔صحت عامہ بہتر بنانے کا مقصد ابھی تک حل نہیں ہوا جو کہ ایک افسوس ناک بات ہے۔ آلودہ ماحول سے صحت کے سنگین مسائل لیتے ہیں جن نے بیمارا پیدا ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ خراب صورت حال  پانی کی نکاسی کی سہولیات نہ ہونا۔ ہر ملک کی حکومت اس قسم کی منصوبہ بندی کرتی ہے کہ ملک میں کوئی نقصان نہ ہو لیکن ہماری سب حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں نہ پانی صاف ہے نہ ہی صفائی کا کوئی انتظام اور ہمارا ملک دن بہ دن ترقی پذیر والے ملکوں میں شامل ہو رہا ہے کیونکہ جب آپ کی آب وہواصاف نہیں ہوگی تو کوئی بھی ملک آپ کے ملک میں آنے کو تیار نہیں۔ کیونکہ ہر ملک صفائی اور صحت کو ترجی دیتے ہیں۔ ماحول صاف ہو یہ سب شہریوں کا حق ہے یہ بات بے حد افسوس ناک ہے کہ اُن کو اُن کے حق سے محروم کیا جاتا ہے ان کو صاف ماحول دے کر ان کا حق دیا جائے۔ صحت کے لیے ایسے کام ایسے منصوبے تیار کرنے ہونگے جا سا ملک کر آب و ہول آلودہ نہ ہو اور اس ملک کا ہر شہری تندرست رہے۔ بحری جہاز جو کے ٹیکنالوجی ہے لیکن اس میں استعمال ہونے والا تیل بھی سمندروں میں شامل  ہونے کی وجہ سے سے فضا آلودہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کا اثر بچوں پر زیادہ ہوتا ہے اُن کے وزن پر پڑتاہے۔عدم صفائی کی وجہ سے آلودگی پر اثر پڑرہا ہے۔ یہ تمام کے تمام اعناصر خطرناک ہیں اور اِن کا اثر دنیا کے ہر انسان پر پڑتا ہے۔ کیونکہ کہ فضائی آلودگی کی کوئی حد نہیں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتی ہے جس کا اثر دنیا کے ہر اندان پر ہوتا ہے اُس سے ماحول خراب ہوتا ہے۔ صحت  کسی نعمت سے کم نہیں ہے اگر صحت ہے تو آپ ہر کام کرسکتے ہو اگر صحت نہیں تو آپ کی زندگی کا کوئی فائدہ نہیں انسان کا کوئی کام کرنے کا دل نہیں کرتا اس لیے ماحول کو صاف رکھا جائے اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں جائیں۔

     

      انسان ترقی کرے لیے اُس کی ترقی ملک اور قوم کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔ ہم سب کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا جس کی وجہ سے ماحول کی آلودگی پر قابو پایا جاسکتاہے۔ ہم سب مسلمان ہے اور اسلام میں صفائی کا حکم آیا ہے اس پر عمل کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ وقت ہم ہے کیونکہ دن بہ دن بیماریاں پھیل رہی ہیں جن سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اس پر جلد سے جلد منصوبے بنا کر ان مسائل کو حل کرنا ہوگا