(پی ایس ایل ( پاکستان سُپر لیگ

  • (پی ایس ایل ( پاکستان سُپر لیگ

     

    پاکستان سُپر لیگ جو کہ ہر سال اس کا ایوینٹ منعقد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سیکورٹری اچھی نہ ہونے کی وجہ سے پی ایس ایل کا ایونٹ  ہر سال دبئی میں ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کرکٹ واپس آگی ہے جس کا سہرا جاتا ہے نہ صرف مینجمنٹ کو بلکہ پی ایس ایل کو بھی کیونکہ آخری دو پی ایس ایل کے چند میچیز پاکستان میں ہوئیں ہیں جن میں فائنل جیسا بڑا ایوینٹ بھی شامل ہے۔ پاکستان کرکٹ بوڈ ( پی سی بی) کے  سابق چئیرمین نجم سیٹی نے پاکستان کی کرکٹ کے لیے کافی کام کیا۔ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی میں بھی اُن کا ہاتھ ہے۔  پہلے دیکھا جائے تو پاکستان میں کھلاڑی قائداعظم ٹرافی کے بعد سیلکٹ ہوتے تھے جن میں زیادہ تر سفارشی ہوتی تھے۔ سفارش اب بھی ہوتی ہے جو کہ ایک بُری روایت ہے میرٹ سے ہٹ کر کام نہ کرنے والوں کو ترجی دینا اچھی بات نہیں ہے۔  پی ایس ایل  نے پاکستان کو کافی حد تک اچھے کھلاڑی دیے ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم میں بہتری آئی ہے۔ اچھا ٹیلنٹ سامنے نکل کر آیا ہے جس سے پاکستان 

    پی ایس ایل کے کردار کا پتا چلتا ہے۔ کہ کس طرح پاکستان نے پی ایس ایل سے ٹیلنٹ نکالا۔ شروع میں جب پی ایس ایل شروع ہوا تو اس کو زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہوئی۔  لیکن پہلے ہی ایڈیشن کے بعد پاکستان سپر لیگ کو مقبولیت حاصل ہوگی تھی۔ 

    جس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ غیر ملکی نامور کھلاڑیوں نے بھی نہ صرف پی ایس ایل میں حصہ لیا ہے بلکہ پاکستان آنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس سے پاکستان میں کرکٹ واپس آئی ہے۔ جو کہ اچھی بات ہے۔ دکھ اس بات کہ ہے کہ پاکستان میں کوئی ٹیم اس لیے نہیں آتی کہ پاکستان میں دہشتگردی ہے لیکن ہمیں دہشتگردی کو ایک طرف رکھ کر کھیلوں کے لیے کام کرنا ہوگا۔ کھیل کے میدان جہاں پر آباد ہوتے ہیں وہاں کہ معاشرے کبھی تباہ نہیں ہوتے اس لیے ہمیں کھیلوں کہ میدان میں کبھی سیاست کو نہیں لے کرآنا چاہیے

     

    یہ بات ہے ۳ مارچ ۲۰۰۹ کی جب سری لنکا کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی تھی اور لاھور میں ان کا میچ تھا پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ اُس وقت دہشتگردوں نے سری لنکا کی ٹیم پر حملہ کیا جب وہ گرونڈ میں داخل ہورہی تھی۔ کچھ کھلاڑی زخمی ہوئی لیکن خدا کا کرنا ہوا کہ ان میں سے کسی کی جان نہ گی۔ لیکن پاکستان سے کرکٹ چلی گی وہ دن پاکستان کرکٹ اور پاکستان میں کرکٹ سے پیار کرنے والوں کے لیے افسوس ناک دن تھا۔ کیونکہ کوئی بھی ٹیم اُس دن کے بعد پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کوتیار نہ تھی۔ اس طرح پاکستان میں کرکٹ نہ ہونا افسوس ناک بات تھی۔ دہشتگرد جو پاکستان کا سکون برباد کرنا چاہتے تھے وہ ایک بار پھر کامیاب ہوگے تھے کیونکہ جب بھی کسی ٹیم کو  پاکستان میں کرکٹ کی دعوت دی جاتی تو اُس ٹیم کا بورڈ اپنی ٹیم کو بھیجتا اور یہ بات کرکے انکار کردیتے کہ پاکستان میں سیکورٹی کا مسلہ ہے اس لیے وہ پاکستان میں اپنی ٹیم نہیں بھیج سکتے۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی محنت رنگ لے آئی اور پاکستان میں پی ایس ایل کے زریعے کرکٹ واپس آگی۔ جوکہ اُن لاگوں کے لیے ناکامی تھی جو پاکستان میں کرکٹ کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔ وقت لگا اور پہلے کم کھلاڑی پاکستان آئے۔ کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ کبھی بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ لیکن پی ایس ایل ایڈیشن ٹو کا فائنل کے جو پاکستان میں ہوا اور بہت سے غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آئے کرکٹ کے لیے جن کو کافی رقم دی گی لیکن اس سے پاکستان کی کرکٹ واپس آگی کیونکہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان میں آمن آگیا ہے۔ پی ایس ایل پاکستان کی خوشیاں لانے میں کامیاب ہوگیا۔ کیونکہ پاکستان کا قومی کھیل ویسے تو ہاکی ہے لیکن پاکستان کے بچے بچے میں کرکٹ کا جنون ہے جس کی وجہ سے جب پاکستان میں کرکٹ واپس آئی تو پاکستان کا ہر شہری خوش تھا کیونکہ وہ دن پاکستان کے لیے اہمیت کا دن تھا۔ پی ایس ایل کے لیے فرنچائزز کے مالک جن میں سے کچھ کا تعلق پاکستان سے ہے کچھ پاکستانی نثاد ہیں جنہوں نے پاکستان میں کرکٹ کے لیے کام کرنے کے لیے خود کو پیش کیاہے۔ پی ایس ایل میں مختلف کیٹگری ہوتی ہیں اور کھلاڑی کو تمام فرنچائزز کی حمات سے اُس میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں رُول ہوتے ہیں۔ ہر کھلاڑی کے ساتھ ساتھ فرنچائزز کے مالک کو اِس پر پُرا اُترنا ہوتا ہے۔ اگر یہ بات بولی جائے تو کوئی غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان میں پی ایس ایل ایک تہوار بن گیا ہے جو ہر سال منایا جاتا ہے۔ پی ایس ایل ہی اصل لیگ ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ کہ نہ صرف دروزے کُھلیں ہیں بلکہ پاکستان کی خوشیاں بھی واپس آئی ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں جب سے سُپرلیگ کا فائنل ہوا ہے اُس کے بعد پاکستان میں نہ صرف غیر ملکی کھلاڑی بلکہ غیر ملکی ٹیموں نے بھی پاکستان کا دورا کیا ہے جن میں سری لنکا ، زمبابوے، افغانستان کے ساتھ ساتھ ولڈالیون نے بھی پاکستان کا دورا کیا ہے جس میں دنیا کے نامور کھلاڑی شامل تھے۔ ۔ جس سے پاکستان کا نام ایک بار پھر اُنچا ہوا۔ جب اُن لوگوں سے پاکستان کے حالت کا پوچھا گیا تو اِن کا کہنا تھا وہ پاکستان میں حود کو کافی اچھا اور مخفوظ محسوس کررہے ہیں اس طرح دنیا میں پاکستان کا ایک اچھا تصور گیا۔ پاکستان کو بدنام کرنے والے ناکام ہوئے۔ 

     

    پاکستان سُپر لیگ میں نہ صرف غیر ملکی کھلاڑیوں  نے شائقینوں کے دل جیتے بلکہ پاکستان نے نئی اسٹارز اُبرتے ہوئے سامنے آئے جنہوں نے پاکستان نیشنل ٹیم میں آکر یہ ثابت کیا کہ اُن میں ٹیلنٹ ہے۔ پی ایس ایل نے پاکستان کرکٹ کا نقشہ تبدیل کردیا۔ پاکستان میں اس کی وجہ سے مزید کرکٹ کا جوش آگیا۔ پی ایس ایل ایک اچھا قدم کا نام ہے جس کے سایہ کے نیچے رہ کر سب پاکستان کے لیے کام کرتے ہیں کیونکہ جو بھی جیتے وہ اکیلا نہیں بلکہ پاکستان جیتا ہے۔ پاکستان کے کھلاڑی غیرملکی کھلاڑیوں کے درمیان رھ کر اُن سے اچھا رشتہ بنا رہے ہیں۔ کس سے وہ سب پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کو تیار ہیں۔ جب پاکستان میں پاکستان سُپرلیگ کا فائنل ہوا تو ولڈالیون نے اپنے نمائندے پاکستان میں بھیجے جنہوں نے پاکستان کی سیکورٹی پر اتفاق کیا۔  جس کی وجہ سے ولڈالیون کی ٹیم پاکستان آئی جس میں غیر ملکی کھلاڑیوں شامل تھے جو کہ کرکٹ میں نام رکھتے ہیں۔  پہلے دو پاکستان سُپر لیگ میں ۵ ٹیمیں تھی

     ( کراچی، لاھور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور) کی ٹیمیں تھیں لیکن پاکستان سُپر لیگ کی ڈیمانڈ کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان سُپر لیگ میں ایک اور ٹیم کو شامل کیا گیا ہے وہ ٹیم تھی ملتان سُلطان

    جس کے کپتانی پاکستان نیشنل ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کر رہے تھے۔ اس بات سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان سپرلیگ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ جو کہ پاکستان کے لیے اچھی بات ہے کہ پاکستان کرکٹ کے میدان میں کام کررہا ہے جس سے پاکستان میں کرکٹ واپس آرہی ہے اور پاکستانیوں کا جوش اور بھی زیادہ ہورہا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب پاکستان کرکٹ بورڈ کوئی کام نہیں کررہا تھا تو پاکستان کے میدان سُنسان تھے لیکن جب بورڈ نے حرکت کی اور مل کر کام کیا تو پاکستان میں کرکٹ واپس آئی۔ دنیا میں بھی سی لیگزز ہوتی ہیں لیکن پاکستان کرکٹ لیگ نے بھی بام کمالیا ہے۔ دنیا میں پاکستان سُپرلیگ کا نام بن گیا ہے، لوگ پاکستان کی لیگ کو دلچسچی سے دیکھتے ہیں۔ دنیا میں پاکستان کہ لیے اچھا اور   مثبت ایمیج جارہا ہے۔ اچھی بات ہے کہ پاکستان کی حکومت بھی اس پر کام کررہی ہے۔ اس دفعہ پاکستان کی حکومت پی سی بی کے ساتھ مل کر کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان سُپرلیگ کے تمام کے تمام میچیزز پاکستان میں ہوجائیں اور تمام ملک کے کھلاڑیوں کو اس بات کی یقین دیھانی بھی کروائی گی کہ اُن کو اچھی سیکیورٹی فراہم کی جاہے گی۔ جس سے کھلاڑی پاکستان آنے کو تیار ہیں اور پاکستان کی عوام اِن کو دیکھنے کو بےقرار ہے 

    پی ایس ایل سے پاکستان میں کرکٹ واپس تو آئی ہے ساتھ ساتھ اچھی بات یہ ہے کہ اور کھیلوں میں بھی بہتری آہی ہے پاکستان میں مختلف کھیلوں کی ٹیمیں آتی ہیں کیونکہ کہ اُن کو بھی پاکستان کی صُرتحال کا اندازہ ہوگیا ہے کہ پاکستان اب پُرامن ملک کے اس لیے پاکستان میں کرکٹ کے ساتھ ساتھ فٹ بال، ہاکی وغیرہ کے کھیلوں کے میدان آباد ہوگی ہیں جوکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے اچھی خبر ہے۔ پاکستان سُپر لیگ پاکستان کے کونے کونے سے کھلاڑی لارہی ہے۔ کس کو ٹیلنٹ ہنٹ کا نام دیا گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑی ناکل کر سامنے آرہے ہیں اور پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن رہے ہیں