اساتذہ کا رتبہ

  • اساتذہ کا رتبہ

     

    اساتذہ کا اختراماساتذہ کا احترام کرنا ہم سب کا فرض ہے کیونکہ پیلے تو ہم سب مسلمان ہیں پھر پاکستانی اس لیے ہمارا اسلام ہمیں  اساتذہ کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اساتذہوہ قیمتی ہیرہ ہے جس سے انسان کبھی غلط سبق حاصل نہیں کرتا۔ ہمارا مستقبل سُنوارنے کے پیچھے اِن کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ ہم سب کا فرض بنتا ہے ان کا احترام کریں۔ کیونکہ اساتذہ ہمارے والدین کی جگہ ہوتے ہیں اور اسلام میں والدین کے حقوق ہیں۔ جیساکہ اُن کی عزت کی جائے اُن کا کہنا مانا جائے تو اس لیے اساتذہ کی عزت کرنا اور اُن کا کہنا ماننا ہم سب کا فرض ہے۔ ہمراے ملک پاکستان میں اساتذہ کی عزت نہیں کی جاتی جو کہ افسوس ناک بات ہے۔ ہمارے اس روئیے کو دیکھ کر اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ جب وہ اٹلی میں تھے تو اُن کا ٹریفک چلان ہوا اور وہ مصروف ہوجے کی وجہ سے چلان وقت پر ادا نہ کرسکے جس کی وجہ سے ان کو عدالت نے طلب کیا۔ جج کے پوچھنے پر میں کہا کہ میں پروفیسر ہوں وقت کی کی کی وجہ سے وقت پر چلان جمع نہ کروا سکا ابھی یہ بات کی ہی تھی کہ جج نے کہا کہ ایک پروفیسر عدالت میں کیا کررہا ہے۔  جس پر تمام افراد جو کہ کمرہ عدالت میں موجود تھے سب نے کھڑے ہوکر مجھ سے معافی مانگی اور میرا چلان معاف کردیا۔ تب میں احساس ہوا اور معلوم ہوا کہ مغرب کے لوگ کامیاب کیوں ہیں۔ کیونکہ وہ لوگ اساتذہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ لوگ کامیاب بھی ہیں۔اساتذہ ہمیں زندگی کی نئی راہ دیکھاتا ہے کیونکہ ہو بھی والدین جیسی ہی محبت کرتا ہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں اساتذہ کی عزت نہیں کی جاتی بلکہ اُن کا مزاح اُڑایا جاتا ہے۔ اسلام کہتا ہے اور ہم سب یہ بات جانتے بھی ہیں کہ وہ قوم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتی جو اپنے اساتذہ کا احترام نہیں کرتی۔ اساتذہ کا احتام لازم نہیں بلکہ فرض ہے اس لیے ان کا ادب کرنا چاہیے۔ انسان جس کسی سے بھی کچھ بھی حاصل کرتا ہے تو پھر اُس کی عزت نہیں کرتا تو اُس کا وہ علم کا کوئی فائدہ نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جوکہ حود بھی استاد تھے تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شاگرد آپ کی عزت کرتے تھے۔ آپ کا اتنا احترام کرتے تھے کہ ایسے مثال نہیں ملتی۔ استاد کا اپنے شاگرد پر بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارے والد کا ہوتا ہے اپنی اُلاد پر۔ عظیم ہے وہ انسان جس کے دل میں اُساتذہ کا پیار ہو اُن کا احترام ہو۔ ایک مشہور مثال ہے کہ سکندراعظم اپنے استاد ارطو کی بہت زیادہ عزت کرتا تھا کسی نے وجہ پوچھی تو سکندراعظم کہنے لگے کہ میرے والد نے مجھے آسمان سے زمین پر لایا تھا لیکن میرے استاد ارسطو نے مجھے زمیں سے آسمان پر لے گیا ہے اس لیے میں اُن کا احسان نہیں بھول سکتا اور میرے لیے وہ والدین کی جگہ ہیں۔اگر دیکھا جائے تو اساتذہ انسانیت کا ستون بھی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کو سُنوارتے ہیں اور کامیاب بھی بناتے ہیں ۔ اساتذہ تو ہیں لیکن اب یہ بات جاننے سے محروم ہیں کہ اس کا اصل معنی کیا ہے ان کے حقوق کیا ہیں کوئی نہیں جانتا۔ مغربی لوگوں کی مثال لےلی جائے تو پھر ہمیں امجھ آتی ہے کہ وہ لوگ کا طرح سے ترقی کر رہے ہیں۔جس طرح شاگردوں کی بھی حقوق ہیں اُس طرح اساتذہ کے بھی حقوق ہیں۔ ان کا حق ہے کہ اچھی اور ٹھیک تعلیم دینا۔ آجکل اساتذہ سفرش پر بھرتی ہوتے ہیں اور اُن کو کچھ آتا ہی نہیں ہے جو کہ گناہ ہے۔ گناہ کیاے ہے کہ تعلیم سینا ان کا فرض ہے اور وہ اپنے فرض کو پُرا نہیں کرپارہے۔ کیونکہ کہ وہ لوگ استاد تو بن جاتے ہیں لیکن ان کو کسی بھی مضمون کا پتا نہیں ہوتا جو کہ غلط بات ہے۔ حکومت سے ہر دفعہ امید کے ساتھ عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ اس شعبہ کو ضرور ٹھیک کریں گے لیکن اُس کو ٹھیک نہیں کیا جاتا۔ سکول کے دور میں بچہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ استاد سے ہی سیکھتا ہے اس لیے اگر استاد ہی پڑالکھا نہ وہ تو پھر اُس بچہ کا مستقبل تباہ ہے۔ ویسے تو دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی انسان جب اپنی ڈگری کے مطابق نوکری نہ ملنے کے بعد استاد بن جاتا ہے جو کہ پڑا لکھا ہوتا ہے لیکن پھر بھی اس کے پاس وہ الفاظ نہیں ہوتے اُس کا انداز بیان بھی وہ نہیں ہوتا جو ایک استاد کا ہونا چاہیے۔ تعلیم کو اچھے سے دوسروں تک پہنچانا ہی اصل ہنر ہے اور یہ کام اساتذہ کا ہے کہ وہ تعلیم کو اپنے شاگردوں تک پہنچادیں۔ استاد ایک چراغ ہے استاد ایک چشمہ ہے۔ قوموں کی تعمیر میں اس کا ہاتھ ہے۔ استاد کی تعلیم اور اُن کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا۔ کیونکہ استاد ایک نعمت ہے۔ وہ الگ بات ہے جو لوگ اس قابل نہیں ہیں لیکن سفارش سے اُن کو استاد بنادیا جاتا ہے۔ جو کہ سراسر غلط بات ہے۔ انسان مے آج تک جو بھی ترقی کی وہ تعلیم کی وجہ سے کی ہے۔ اور  تعلیم ہمیں اساتذہ ہی دیتے ہیں۔ اچھا طالبعلم استاد کو ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ استاد کی مثال سکندراعظم نے اس لیے دی اور وہ اس لیے عزت بھی کرتے تھے کیونکہ ان کے استاد نے اُن کو وہ تعلیم دی جس سے انہوں نے فائدہ اُٹھایا۔ اس لیے حکومت سے گزارش ہے کہ اس پاک شعبہ میں اُن لوگوں کو دور رکھا جائے جو اس قابل نہیں ہیں اُن لوگوں کو دور دکھا جائے اور اس پاک شعبہ کو رشوت اعر سفارش جیسے گندے کاموں سے دور رکھا جائے۔ اساتذہ درخت کی ماند ہوتے ہیں جس کے سایے سے انسان فائدہ ہی اُٹھاتا ہے نقصان نہیں۔ اس لیے ہم سب کو اساتذہ کی عزت کرنی چاہیے اور ان کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس پاک شعبہ میں  پاک اور صاف لوگوں کو لایا جائے نہ کہ ایسے لوگون کو جو بدنامی کا نام بن کر اساتذہ کا نام بدنام کریں۔ ہمارا اسلام ہمیں والدین کی عزت کا درس دیتا ہے اور ساتھ فرماتا ہے کہ آپ کیاساتذہ بھی والدین کی جگہ ہیں اس لیے ہمارا فرض ہے کہ اپنے استذہ کی عزت کریں اور ساتھ ہی اِن کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔ اسلام نے استاد کو عزت دی ہے اس لیے ہمارا اسلام استاد کو باپ کا مرتبہ دیا ہے۔ عزت کی بات ہوتو اسلام نے استاد کو بے پناہ عزت دی ہے۔ استاد کے پہلو پر نظر ڈالی ہے کہ استاد کا کیا کام ہے اور ہمارا کیا کام ہے کہ اساتذہکے ساتھ کیسا راویہ رکھنا چاہیے۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر کامیابی ملنی والی ہے اور ملتی بھی ہے کیونکہ استاد کسی بھی غلط راستہ کا نہیں بتاتا وہ ہمیشہ سے پیار اور محبت کی بات کرتا ہے اور کامیابی کا راز بتاتا ہے کیونکہ کہ کوئی بھی باپ اپنے بچوں سے نفرت نہیں کرتا اُس کو ہمشہ سے سیدہ راستہ دیکھتا ہے۔ دعا ہے کہ اللّٰہ پاک ہمارے ملک میں ہمارے لوگوں میں اساتذہ کی عزت کرنے کا حوصلہ ڈالیں کیونکہ اگر اساتذہ کی عزت نہیں ہوگی تو معاشرہ کبھی بھی اپنی منظر کو نہیں پاسکتا وہ ہمیشہ سے پیچھے ہی رہے گا اور ناکام اُس کا مقدر بن جائے گی۔ وقت بہت ہوگیا اب اس عظیم ہستی یعنی اساتذہ کی عزت کرنی ہے جس سے ہم معاشرہ میں کامیاب ہو جائے آمین۔ اساتذہ کو بھی اپنی خامیاں دُور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اُن کا اندازے بیان ایسا ہونا چاہیے کہ سامنے والا اُن کی بات کو سمھ سکے اور جان سکے کہ وہ کیا بول رہے ہیں۔ اُن کی زبان میں مٹھاس ہونی چاہیے کہ شاگرد اُن کے ساتھ مل کر کام کریں نہ کہ اُن سے ڈر کر کیونکہ کہ استاد ارو شاگرد کا جو رشتہ ہوتا ہے وہ رشتہ پیار کا ہوتا ہے اور اس رشتہ کا اپنا ہوہی ایک رنگ ہوتا ہے۔ اس پاک رشتے کی قدر کرنی چاہیے اور اس رشتے کے حقوق کو دیکھ کر کام کرنا چاہیے۔ مغربی لوگوں سے سبق لینا چاہیے کہ وہ لوگ استاد کی عزت کیسے کرتے ہیں اور اُن کی کامیابی بھی اسی میں ہے کہ وہ لوگ اساتذہ کی عشت کرتے ہیں دیکھاوا نہیں کرتے۔ خدا بھی اُن سے محبت کرتا ہے جو پیار ارو عزت کی زبان بولتے ہیں کیونکہ کہ خدا کو نرم دل لوگ پسند ہیں اور سنگدل کبھی بھی پیار سے بات نہیں کرتا نہ ہی کسی پاک رشتے کی عزت کرتا ہے کس کی وجہ سے خدا نارض ہوجاتا ہے اور پھر ناکامی مقدر بنتی ہے اُس شخص کی اور اُس معاشرے کی جو خدا کے راستے سے ہٹ کر کوئی کام کرے۔  میرے آج کی اس مضمون کا مقصد ہے اساتذہ کی عزت پر ان کے حقوق کے ساتھ ساتھ اُن کے کی اہمیت کیا ہونی چاہیے جو کہ ہم لوگ نہیں کرتے