والدین کے حقوق

  •  

    والدین کے حقوق

    والدین وہ  پھول ہے جس سے دنیا میں زندگی میں روشنی ہوتی ہے۔ شکر ہے خدا کا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور ساتھ ہم لوگ خوشنصیب ہیں کہ ہم لوگ پاکستانی ہیں کیونکہ ہمارے پاس ملک ہے آزاد جس میں ہم مرضی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ والدین ایک نعمت ہے۔ والدین کی دعا انسان کو زمین سے آسمان تک لے کر جاتی ہے۔ ان کا احترام کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ والدین جو کہ بچوں سے محبت کرتے ہیں اُن کے کیے دن رات محنت کرکے ان کو بڑا کرتے ہیں ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بےچوں کو بڑا کرنا پھر اُن کو ساتھ ساتھ تربیت دینا اور بولنا چلنا سیکھانا یہ سب کام ایک آسان کام لگتے ہیں لیکن انسان اُس وقت سمجھتا ہے جب انسان والدین کی نشیشت پر جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے بہت زیادہ ترقی کی ہے کس میں کوئی شق نہیں ہے لیکن میں جب دیکھتا ہوں کہ انسان اس حد تک چلا گیا ہے کہ وہ اس قابل ہو گیا ہے کہ والدین کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں اُن کو بُرا کہتے ہیں اُن کی عزت تو دور کی بات والدین پر تشدد کرتے ہیں ۔ خدا کی قسم ایسی اولاد کبھی کامیاب نہیں ہوگی اور ان کو دنیا میں بھی اُس طرح سے ہی لوگ ملتے ہیں پھر یہ لوگ نہ دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں نہ آخرت میں۔ افسوس ناک بات ہے جب اولڈ ہاوس دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ کس طرح سے اپنے والدین کے ساتھ ایسا  سلوک کرکے اپنی دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی خراب کررہے ہیں۔ 

    زمانہ اتنا بدنام ہوگیا ہے کہ نا آسمان پھٹہ نا زمین آج کر اللّٰہ معاف کرے اولاد اپنے والدین کا خون کر لیتے ہیں۔ خدا کے لیے یہ ہمارا دین نہیں ہے اتنا گرجانا کسی اور مذہب میں بھی نہیں ہوگا کہ لوگ اپنی زندگی میں کبھی جائیداد اور کبھی کس وجہ سے قتل کر رہے ہیں۔ قیامت قریب ہے۔ انسان کے پاس کچھ نہیں ہے کیونکہ انسان نے قبر میں بھی حالی ہاتھ جانا ہے۔ ہمارا اسلام ہمیں یہ چیز نہیں سیکھاتا۔ افسوس ہوتا ہے اور کبھی رونا بھی آجاتا ہے ایسی اولاد کو دیکھ کر۔ والدین  وہ نعمت ہے جس کی دعا سے ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ورنا ہم لوگ کبھی بھی کامیاب نہیں وہ سکتے۔ والدین کبھی بی بد دعا نہیں دیتے لیکن آگر والدین کی بددعا لگ گی تو کبھی سمبھل نہیں سکو گے۔ انسان سوچتا کچھ اور ہے ہوتا کچھ اور ہے۔ کسی دنیاوی محبت ہے پیچھے اپنے والدین کو چھوڑ دینا کہا کی عقلمندی ہے۔ وہ والدین جنہوں نے ہمیں پیدا کیا اور دنیا میں لے کر آئے اور ہمیں بولنا سیکھیا۔ جب بڑے ہوئے تو اس زبان کی تیزی اُن کے سامنے کیسے دیکھا سکتے ہیں۔ 

    قرآن پاک میں والدین کا مقام بہت بڑا بیان کیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں ہے کہ اپنی ماں اور باپ کے ساتھ اچھا برتاو کرو۔ یعنی اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ یہ بھی کہ والدین کے ساتھ برا سلوک کرنا۔ والدین کا اولاد پر اتنا احسان ہوتا کہ اولاد زندگی ساری بھی وہ احسان نہیں اُتار سکتی۔ والدین بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ اس لیے والدین کا ہر حکم ماننا اولاد کا فرض ہے۔ لیکن والدین کے کہنے پر خدا کا کسی کو شریک ٹھرانا کبھی وبول نہیں ہے۔ شکر ہم سب مسلمان ہیں اور ایک مسلم ملک میں آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔  باپ جو کہ محنت کرتا ہے سختی برداشت کرتا ہے اولاد کی ہر چیز پوری کرتا ہے لا کر دیتا ہے۔  کمائی جتنی بھی ہو وہ اولاد کے لیے کسی نا کای طرح سے وہ لے آتا ہے اُن کو خوش کرنے کے لیے۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کے پاوں کے نیچے جنت ہے۔ سبحان اللّٰہ۔ کیا بات ہے اس ہستی کا احتام نا کرنا کسی بڑے گناہ سے کم نہیں۔ ماں، باپ کے ساتھ اچھا سلوک رکھا جائے۔ ماں باپ کو ستانے کہ بات یہ بات بھول جاہوں کہ تم کامیاب ہوجاہوگے۔ کبھی بھی کامیابی تم تک نہیں آسکتی۔ ہمیشہ سے آپ کو رُسوائی ہوگی۔  جس طرح سے اولاد کا حق ہے اس طرح سے حق ہے والدین کا بھی کہ وہ اپنی زمہ داری لے کر اولاد کی پرورش کرے کیونکہ کہ وقت کہ ساتھ ساتھ ہمارے خون کے رشتوں میں بھی ایک قسم کی دیوار بن گی ہے۔ والدین جس کے پاس آجکل اولاد کے لیے وقت نہیں ہے۔ کام کام اور صرف کام ہی ہے جس کی وجہ سے اولاد کو وہ محبت نہیں ملتی جو اُس کو ملنی چاہیے۔ اس وجہ سے جب اولاد بڑی ہوتی ہے تو وہ والدین کا حکم نہیں مانتی۔ اور والدین پھر گلہ کرتے ہیں کہ حکم نہیں مانتی اور ہماری اولاد نافرمان ہوگی ہے۔ اس لیے اولاد کو وقت دیا جائے اگر وقت نہ دیاگیا تو وہ احساس کمتری کا شکار ہوجائیں گے۔ 

    اور والدین سے محبت کیا ہوتی ہے وہ کبھی نہیں سمجھ سکیں گے۔ اس لیے والدین کو اپنے حقوق یاد ہیں لیکن ہمارا اسلام اب کو برابر کا حقوق ہیتا ہے اس لیے اسلام میں اولاد کے بھی حقوق ہیں۔ 

    اولاد کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ایسی بات نا کرے یا پھر ایسا روایہ احتیات نا کرے جس سے اولاد کو والدین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے۔  آسان الفاظ میں یہ کہ ان سے ایسے بات نہ کی جائے کہ  وہ بات اُن کو ناپسند لگے اور اُن کا دل دکھے کیونکہ کہ والدین کا دل توڑنے والا کبھی بھی خدا کو پدند نہیں اور جو خدا کو پسند نہیں ہو کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ والدین جو کہ اولاد کو اچھی تربیت دیتی ہے یہ کسی بھی نعمت سے کم نہیں کیونکہ کہ اچھی تربیت کے بعد ہی انسان/اولاد اچھی سوچ کے ساتھ کامیاب ہوتے ہیں۔ 

    اولاد کے کیۓ اچھی بات ہے کہ والدین جیسی نعمت ہے اُس کے پاس جاس کی دعا سے کامیابی ملتی ہے۔ اس لیے والدین کو بھی اولاد کو اچھی تربیت دینی چاہیے جس سے وہ والدین کی خدمت کرے اور اگر کسی کہ والدین دنوں یا کوئی ایک بھی اس دنیا سے چلاگیا ہے تو اُن کے کیے مغفرت کی دعا کر۔ کس سے سژواب بھی میے گا اور خدا بھی خوش ہونگے۔ 

    میرے اس تحریک کا مقصد یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ والدین کہ کیا حقوق ہیں اور سب کے پاس احساس بھی ہے۔ لیکن دنیا کی محبت ایسی ہے کہ انسان کو اندھا کردیتی ہے۔ انسان کو کچھ نظر نہیں آتا۔ انسان اُس میں کھو کر اپنے خونی رشتوں کو بھول جاتا ہے۔ اسلام نے ہمیں والدین کے حقوق بتائیں ہیں اُن کی کیا حقوق ہیں اُن پر کیسے حدمت کی جائے۔ اُن کے لیے کیا کرنا ہے سب کچھ اسلام نے بتا دیاہے۔ اسلام میں ماں، باپ کا درجہ حیثیت سب کی سب موجود ہے۔ قرآن پاک کیا کہتا ہے والدین کے حقوق کہ حوالے سے سب کے سب موجود ہیں اس لیے قرآن کو پڑنا ہوگا اس کو سمجھنا ہوگا کیونکہ والدین کے حقوق کے  بغیر ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے 

    اسلام مین تو کای اجنبی سے بھی ناراض ہونا قبول نہیں یہاں تو سوال ہے والدین کا۔  اسلام ہمارا سب کے سب رشتوں میں میل ملاپ رکھنے کا حکم دیتا ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ میں والدین کے حوقق ہے ساتھ ساتھ اولاد کے حقوق کی بات بھی کی کہ اولاد کہ بھی حقوق ہوتے۔ کیونکہ ہم لوگ جس دنیا میں ہیں آجکل کای کہ پاس وقت نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرے۔ گھر والوں کو وقت نہیں دیا جاتا جس سے اولاد احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ والدین کو پیار نہیں دیتے۔ اور کبھی کبھی بڑے ہو کر والدین کو گھر سے باہر نکال دیتے ہیں۔ اس لیے ہمارا مذہب سب کے حقوق کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔  والدین راضی ہیں تو ہمارا پیارا رب بھی راضی ہے آگر ہمارے والدین راضی نہیں ہے تو ہمارا رب بھی کبھی بھی ہم سے راضی نہیں ہوگا۔ ہمیں اس دنیا میں اس بات پر غور کرنا ہوگا کیونکہ اس کام میں کامیابی ہے اس کے بغیر کامیابی کبھی بھی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے والدین کو اولاد کے اور اولاد کو والدین کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا۔ کامیابی ہی اسی میں ہے کس سے انسان کامیاب ہو سکتا ہے اور خدا سے دعا ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کے سات پیار محبت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔   جب والدین بوڑھے ہوجائیں تو ان کا اور زیادہ خیال رکھا جائے۔ دعا ہے کہ اولاد والدین کے حقوق کا خیال رکھے۔ ان کے ساتھ پیار کے ساتھ پیش آئے اور اپنی ناصرف دنیا بلکہ آخرت بھی کامیاب با دیے ورنہ دنیا میں تو ناکامی ہے ہی ہے لیکن آخرت میں بھی جہنم ٹہکانا ہوگا

    خدا نے ہیرے سے زیادہ قیمتی چیز دی ہے والدین کی شکل میں اس کو کھونا نہیں۔ اس کی قدر کرنا جس سے دنیا اور آخرت میں کامیابی ملے گی۔ کیونکہ کامیاب ہوہی ہوگا جو والدین کی خدمت کرے گا جس سے ہمارا رب بھی خوش ہوگا اور انسان کامیاب ہوگا دنیا اور آخرت میں۔ انشاءاللّٰہ