Pearls Of Eman

  •  Topic . Pearls Of Eman

     

    رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے المیزان کیمپس میں ایک سیمنار منعقد ہوا۔ جس کا عنوان تھا ( Pearls Of Eman)

    ۔ اس سیمنار میں کافی تعداد میں طلبہ اور طلبات نے شرکت کی۔ سیمنار ے جو پہلے اسپیکر تھے وہ تھے راجہ ضیاالحق صاحب۔ انہوں نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہورہی ہے کہ میں آج آپ لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ میں آج آپ لوگوں کو جوبات بتانے لگا ہوں اس سے مجھے یقین ہے کہ آپ لوگوں کی زندگی تبدیل ہونے لگے گی۔ بات ہے کہ دعا کیا ہے اور کیا ہم دعا بھی کرتے ہیں یہ نہیں۔ میرے نزدیک ہم دعا کو ٹھیک سے اہمیت نہیں دیتے۔ دعا ہی عبادت ہے دعا عبادت کی کنجی ہے۔ ہم دعا مانگ لیتے ہیں لیکن ہم لوگ اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ یہ دعا قبول ہوگی یہ نہیں اور یہ بول دیتے ہیں کہ چلو آخرت میں دعا قبول ہوجائے گی۔ دعا مانگ بھی رہے ہیں اور ہمیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم لوگ کیا مانگ رہے ہیں۔ ایک مثال کے ساتھ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھایا کہ بچہ اسکول جاتا ہے اور پینسل ٹوٹ جاتی ہے جس پر وہ روتا ہے لیکن ٹیچر ہنستی ہے کہ اس کو پتا ہے کہ  پینسل نئی آجائے گی لیکن بچہ سمجھتا ہے یہ میری پینسل ہے۔ اسی طرح خدا بھی دینا چاہتا ہے اور  دینے والی ذات بھی وہی ہے جس طرح بچہ روتا ہے اور سمجھتا ہے یہ میری آخری پینسل ہے تو اسی طرح انسان بھی مایوس ہوجاتا ہے اور سمجھتا ہے یہ میری آخری پینسل ہے تو اسی طرح انسان بھی مایوس ہوجاتا ہےاور مانگتا نہیں لیکن آپ کے مانگنے میں کمی ہوسکتی ہے لیکن خدا کے دینے میں نہیں ہوسکتی۔ دعا کا قبول نہ ہونا بھی ہمارے گناہ کا نتیجہ ہے اس وجہ سے ہماری دعا قبول نہیں ہوتی۔ اللّٰہ کے لیے ہر کام کرنا آسان ہے۔ جب بھی دعا کرو امید کے ساتھ کہ  دعا قبول ہوگی۔ ان کے آخری لفظوں کے ساتھ اپنی تقریر کا اختمام کیا کہ سب کے لیے دعا کروگے  تو خدا فرماتے ہیں کہ خود کے لیے دعا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

     

    ہامرے دوسرے اسپیکر جن کا نام حسیب محمد خان تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ہی مزاح انداز میں کیا کہ میرے نام کے ساتھ آتا ہے محمد اور میرے والد کہا کرتے تھے کہ

    محمد بن قاسم  نے جنگیں لڑ کر بہت سے ملک فتح کیے اور ایک تم محمد ہو جس سے تین بار میٹرک پاس نہیں ہوئی۔ کیونکہ میں پڑھائی میں ذہین نہیں تھا۔ پولیس میں تھا لیکن ماں کے کہنے پر میں نے ٹیچنگ جوائن کیا۔ میں اکثر کہا کرتا تھا کہ دل کی بات سنو کیونکہ دل ہمیشہ سچ اور ٹھیک بولتا ہے۔ دل ہوتا  left  پر لیکن بات اور سچ  Right دیتا ہے۔ اگر آپ کا دل کام نہیں کرتا تو سمجھو زندگی کا بیک اپ ہے۔ اچھی سوچ کے لیے نیند کو بھی ٹائم دو تاکہ اچھی سوچ سوچنے کا خیال آجائے۔  آبدیدہ ہوکر اپنی ماں کا واقعہ سنانے لگے کہ والدہ کہا کرتی تھی کہ جب بھی مانگو تو خدا سے مانگو اور بڑا مانگو۔

    آخر میں جاتے جاتے، سب آئے ہوئے افراد

     ( لڑکیاں اور لڑکوں) کو نصیحت کرکے گے کہ زندگی میں EGO میں سے E  کو ہٹا دو اور GO کا ساتھ دو اور زندگی میں آگے بڑو اور والدین کی عزت کرو ورنہ بعد میں بہت دکھ ہوگا۔

     

    اس کے بعد سیمنار کے خاص اور اہم شخصیت کو اسٹیج پر دعوت دی گئی جو تھے مولاناطارق جمیل صاحب۔ سلام اور دعا وں کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گفتگو کا آغاز کیا اور کہا کہ ہم سب کو دنیا میں کسی نے بنا کر بیجھا ہے اس ذات نے آخر کیا سوچ کر ہمیں دنیا میں بیجھا؟ انسان کی اتنی خوہشات ہیں کہ اگر ساٹھ ہزار سال بھی زندگی مل جائے تو کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم سب نماز کی اہمیت کھو چکے ہیں۔ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ خضرت محمد نماذ پڑھتے ہوئے  کچھ قدم آگے گے پھر پیچھے واپس آئے اور کچھ قدم پیشھے چلے تو نماذ کے بعد سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں جب آگے گیا تو مجھے جنت نظر آئی تھی اور جب میں پیچھے کی طرف گیا تو مجھے دوزخ کا عذاب نظر آیا۔

    ایک اور واقعہ ارشاد فرمایا کہ خضرت موسٰی اللّٰہ سے کافی اسرار کرنے کے بعد خدا کی جھلک دیکھنے لگے کیونکہ وہ خدا کے لادلے تھے  لیکن نور کی ہلکی سی کرن سیکھ کر بےہوش ہوگے تھے۔ یہ تھا میرے خدا کا نور اور کہا گیا کہ آپ کا رب آپ کو سلام پیش کرتآ ہے۔

    مولانا صاحب نے خضرت محمد کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ جب دنیا میں آئے تو سب سے پاک ہوکر آئے پیدائشی ہی سب سے الگ تھے۔ پھر  اللّٰہ پاک کی تعریف میں کہا کہ عرش کو بنانے والا، زمین کا بنانے والا۔ میٹھا پانی بنانے والا، ستاروں کو موڑنے والا اور پھر ہمیں بنانے والا کون ہے وہ ذات؟۔  Stephen Hawing مشہور ساہنسدان جو خدا کو نہیں مانتا تھا کیونکہ اُس کی عقل پر تالا تھا۔ لیکن اس نے بھی کہہ دیا کہ ان سب کے پیچھے ایک ہی طاقت ہے۔  زندگی مسافر خانہ ہے اس کی حفاظت کرو۔ اسلام ایک وردی ہے۔ اور اس وردی میں رہ کر ہمیں نماذ ادا کرنی چاہیے۔ ذکوۃ  ادا کرو انسان سخی نہیں ہوگا تو خدا کو پسند آئے گا بےشک گناہگار ہو لیکن نمازی ہوگا اور سخی نہیں ہوگا تو خدا کو پسند نہیں آئے گا۔ ذکوۃ سے ہٹ  کر بھی خدا کے لیے اس کی راہ میں دو ۔ دنیا میں سب سے  پہلا رشتہ ( میاں بیوی) کا تھا اور آج کل لوگ اس رشتے کی اہمیت کھو چکے ہیں۔ پیسہ ہے تو ٹھیک نہیں  تو نہ ۔ اخلاق کی کوئی بات نہیں کرتا۔ 

    میٹھا بول سے دنیا خریدلو۔ بہت سے لوگ دیکھے ہیں جن کے پاس  اخلاق کی کمی ہے۔ زبان زندگی کو اچھا بنا سکتی ہے۔ زندگی کار، گھروں سے نہیں بلکہ اچھی زبان سے ہی سنوار سکتی ہے۔ نو لاکھ نوے ہزار احادیث ہیں زندگی کے اصولوں پر۔

    آخر میں مولانا صاحب نے نصحیت کرتے ہوئے لڑکیوں سے کہا کہ صبر سیکھو کیوں کہ سسرال بہت ظالم ہے۔ اس لیے زبان پر قابو پالو رشتہ قائم رہےگا۔ ورنہ رشتے کبھی کامیاب نہیں ہونگے آگر صبر نہ کیا تو   رشتوں کو مظبوط کرو ان کی توڑو نہیں۔ راضی ہونا سیکھ لو جو لوگ راضی ہوتے ہیں وہ لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں اور اللّٰہ پاک خوش ہوتے ہیں۔ ہم لوگ ایک دوسروں سے ناراض ہیں میری ایک نصیحت ہے کہ جا کر  منالو خدا کے لیے جو جس جس سے ناراض ہے اُن کو منالو۔ خدا کی قسم اگر ناراض ہی رہے تو خدا تم سے ناراض ہوگا اور  آپ کی دعا بھی نہیں جاتی خدا تک کیونکہ کہ ناراض رہنا خدا کو اتنا نہ پسند ہے۔

     

    مجھے اس سارے سیمنار سے بہیت کچھ سیکھنے کو ملا۔ کہ انسان کیا ہے انسان کو دنیا میں کیوں بھیجا گیا۔ کیا انسان جو دعا مانگ رہا ہے وہ قبول ہو رہی ہے یہ نہیں؟۔ دعا مانگنے کا طریقہ ہوتا ہے کہ خدا کو بھی مانگنا پسند ہے۔ خدا اُن کو ہی دیتا ہے جو مانگتے ہیں اس لیے جب بھی مانگو تو خدا سے مانگو۔ وہ دینے والاُہے اُس کے خزانے میں کمی نہیں آتی اور وہ مانگنے پر دینے والا ہے۔ نماذ ہی سے خدا ہم سے بات کرتے ہیں انسان کی زندگی سکون میں ہوتی ہےجکب نماذ پڑھتے ہیں۔ اس لیے انسان کو نماذ ادا کرنی چاہیے۔ اس سیمنار میں مجھے بہت کچھ ملا کہ انسان جو ہے اس کی زندگی سکون میں کیسے جائے گی۔ کیونکہ کہ انسان جو ہے وہ خدا سے گلہ کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوتی لیکن انسان جو خود بھی دعا مانگ کر اس بات کو نہیں سمجھ پارہا کہ میری دعا قبول ہورہی ہے یہ نہیں اس لیے دعا قبول ہوگی اس بات کا یقین ہونا ضروری ہے۔ خدا ہم سب کو اس بات پر یقین دلوائے کہ دعا قبول کرنے والی ایک ہی زات ہے وہ ہے خدا کی اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ ہم سب کو دینا والا خدا ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں اس لیے ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ دعا بھی قبول ہوتی ہے اور  کرنے والی ذات ایک ہی ہے جو ہماری دعا کو سنتا بھی ہے اور قبول بھی کرتا ہے وہ ہے ذات پاک خدا کی

    اس لیے دعا مانگتے وقت یقین ہو کہ خدا سن رہا ہے کیونکہ وہ مانگنے والوں کو پسند کرتا ہے نہ کہ نا پسند  کرتا ہے۔ نہیں مانگتا خدا کو بُرا لگتا ہے کہ اس لیے خدا  سے سچے دل سے مانگو خدا دینے والا ہے اور یقین کے ساتھ کہ خدا سے ہر چیز مانگنے کے بعد ملے گی۔ اللّٰہ پاک ہم سب کو خدا پر یقین لانے اور یقین کے ساتھ دعا مانگے کی توفیق دے آمین