جھوٹ

  • جھوٹ

    دن کا آغاز جھوٹ سے نہ ہو تو وہ دن ہمارے کسی کھاتے میں نہیں آیا۔ کہنے کا مطلب ہے کہ ہم لوگ ہر روز ہر دن ہر بات میں جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولتے۔ ہم سب مسلمان ہیں اور ہمارا مذہب اسلام جھوٹ کی ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ ہم لوگ روز جھوٹ بولتے ہیں۔ اور جو لوگ جھوٹ بولتے ہیں خدا اُس پر لانت بھیجتے ہیں۔ ہم لوگوں کو نہ جانے ھجوٹ بول کر کیا ملتا ہے۔ خدا فرماتے ہیں میں اُس کی مدد کرتا ہوں جو سچ بولتے ہیں اور یہ سب جان کر بھی ہم لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ جس سے خدا کی لانت ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہر لوگ ہر بات میں جھوٹ بولتے ہیں اور اپنا ایمان کمزور کرتے ہیں جس سے خدا کی لانت کے ساتھ ساتھ خدا کی نازاضگی بھی ہوتی ہے۔  اگر دیکھا جائے پاکستان میں بچوں سے لے کر بڑوں تک اور چھوٹے دوکاندار سے لے کر بڑے برے کارباری لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ جس سے ہمارے کاروبار میں برکت نہیں ہوتی۔ ہم لوگ اگر اپنے میڈیا کی بات کریں تو ہمارا میڈیا کیا دیکھا رہا ہے ہمارا میڈیا بھی جھوٹ دیکھا رہا ہے۔ جس سے ہمارا معاشرہ تباہ ہو رہا ہے ہم لوگوں میں نفرت پیدا ہو رہی ہے دوریا پیدا کرنے میں جھوٹ کا اہم کردار ہے۔ خدا پاک فرماتے ہیں کہ سچ بولوں کیونکہ کہ سچ کا ساتھ مین دیتا ہین اور جھوٹ بول کر کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جھوٹ کب تک بولو گے سچ ایک نہ ایک دن سامنے آجاتا ہے تب جاکر ہم لوگوں کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ اس لیے ہم سب مسلمان ہیں تو سچ بولنا ہم سب کا فرض ہے۔ سب کہ سب مذہب مین سچ کا درس دیا جاتا ہے جس طرح ہمارا اسلام سچ کادرس دیتا ہے کہ ہم لوگوں کو سچ کے سوا کچھ نہیں بولنا چاہیے۔ کسی غریب فروٹ والے کے پاس چلے جاہو جو کہ  جھوٹ بول کر اپنا کام چلا لیتا ہے لیکن جھوٹ بول کر خدا کو ناراض کردیتا ہے۔ جس کام میں جھوت بولا جائے اُس کام میں برکت نہیں رہتی۔ اس لیے اس کام سے دور رہا جائے جس میں برکت ہی نہ ہو۔ ہم لوگ کسی جگہ جا رہے ہین اور اپنے والدین کو نہیں بتا رہے تو یہ بھی جھوٹ ہی ہے کہ ہم لوگ اُن لوگوں کو جھوٹ بول کر بعد میں سچ سامنے آنے پر اُن کا دل دکھاتیں ہیں۔  ہمارا میڈیا کو دیکھاجائے کہ ہمارا میڈیا بھی جھوٹ ہی دیکھا رہا ہے ہم لو روز کوئی نہ کوئی خبر دیکھتے ہیں جن میں کوئی سچائی نہیں ہوتی صرف میڈیا اپنا نام کمانے اور پیسوں کے لیے وہ خبریں چلا دیتے ہیں۔ جس سے ہماری جنریشن خراب ہورہی ہے اس کے ساتھ ساتھ جھوٹ کی وجہ سے لوگوں میں محبت بھی نہیں رہی میڈیا جھوٹ بول کر معاشرہ تباہ کر رہا ہے۔ ہم لوگوں میں نفرتین پھیلانے میں میڈیا کے جھوٹ کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ  ہمارے ملک پاکستان میں جھوٹ سے ہونے والے نقصان کا آخرذمہ دار کون ہوگا کون ہے اس بات کا ذمہ دار کہ ہمارا معاشرہ تباہ ہو رہا ہے۔ اس کا کواب ہے ہم لوگ وہ اس طرں کہ ہم لوگ ایسے میڈیا کو سپورٹ کرتے ہیں جو جھوٹے ہیں اور پیسوں کہ لیے جھوٹ بولتے ہیں۔ شکر ہے خدا کا ہم سب مسلمان ہیں اور ہمارا اسلام سچ کو پسند کرتا ہے۔  ہم لوگ میڈیا کے ذریعے ناجانے کیا کیا جھوٹ بول دیتے ہیں میڈیا کا مطلب ہے سچ کو دیکھانا اور سچ کو سامنے لانا لیکن ہمارے ملک پاکستان میں میڈیا والے بِک گے ہیں دوسروں کے ہاتھوں وہ لوگ میڈیا کو پیسہ دے کر اپنی مرضی کے مطابق خبر چلوتے ہیں جو کہ غلط ہے اور ہم لوگوں میں نفرتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ہمارا  الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا میں شامل فیک لفظ آج کل بہت ہوگیا ہے فیک کیا چیز ہے فیک بھی ایک جھوٹ ہے جو ہم لوگوں تک میڈیا کے ذریعے پہنچا رہے ہیں جو کہ ہماری جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ جب بھی کوئی خبر دیکھیں تو اس بات کو سامنے رکھیں کہ لکھنے والا کون ہے اور کیا اس نے پہلے بھی کوئی نیوز لکھی تھی آگر لکھی تھی تو کیا وہ سچی تھی یا اس کو پہلے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان سب باتوں کے علاوہ خبر کی  تصدیق بھی کرنی ضروری ہے کہ یہ خبر کا بیک گروڈ کیا ہے کیا اس خبر کی کوئی صداقت بھی ہے یہ نہیں؟۔ پاکستان میں روز بہت سی ایسی نیوز ہوتی ہیں جو جھوٹی ہوتی ہیں جو کہ نشر ہو جاتی ہیں اور عوام اُس کا یقین کر کے اس نیوز پر اپنے خیالات کا اظہار بھی کر دیتے ہیں لیکن وقت انے پر پتا چلتا ہے اس خبر کا سچ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یہ خبر جھوٹی ہے۔  اصل بات ہو رہی ہے جھوٹ کی اور ہمارا میڈیا کا ذکر اس لیے اہم ہے کیونکہ ہم لوگوں کے لیے آج کل میڈیا ہی سب کچھ ہے ہم لوگ میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑے ہوئیے ہیں۔ تو اگر ہم لو جھوٹ سنے گے تو ہم لوگوں میں جھوٹ کے سوا کچھ نا ہوگا۔ خدا پاک نے فرمایا کہ جو انسان اگر مذاق کے ساتھ بھی جھوٹ بولے گا تو وہ ہم میں سے نہیں ہوگا۔ اور جو ہم میں سے نہیں ہوگا وہ مسلمان نہیں ہوگا۔ اس لیے ان جھوٹ سے دور رہا جائے جس سے ایمان جانے کا ڈر ہو۔ لیکن ہم لوگوں کے دن کا آغاز ہی جھوٹ سے ہوتا ہے کاروبار میں جھوٹ نہیں بولیں گے تو ہمارا کاروبار تو چلتا نہیں ہے۔ پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا خدا کی نارضگی بھی ہوتی ہے وہ انسان کبھی کامیاب نہیں ہوگا جو جھوٹ بولے گا۔ اس لانت سے ہمیں دور رہنا ہوگا ورنا ہم لوگ ناجانے کب خدا کی نارضگی کا سامنا کرنا پڑے۔ آجکل کے لوگ اپنے والدین سے بھی جھوٹ بولتے ہین اور سمجھتے ہیں کہ ان کو کچھ نہیں پتا ہوتا لیکن یاد رکھنا والدین کو سب پتا ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ کیا کر رہا ہے ہمارا بچہ سچ بول رہا ہے کہ جھوت۔ اس لیے خدا کہ لیے اپنے والدین کا بھی دل ہا توڑو اور اس دل کو جوڑو سچ بولوں اپنی دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کہ لیے سچ بولو۔  سچ کیا ہے سچ سے انسان کے دل کو سکون ملتا ہے انسان سچ بول کر کبھی ہار نہیں مانتا کیونکہ خدا پاک کا سہارا ساتھ ہوتا ہے جو سچ بولتے ہیں۔ سچ سے انسان کے ہرکام آسان ہوجاتے ہیں۔دیکھا جائے تو ہم لوگ جھوٹ کب بولتے ہیں جب ہم لوگ غلطی پر ہوتے ہیں تو ہم لوگ اپنے سامنے کھڑے انسان سے ڈر جاتے ہیں کہ میں اگر سچ بول دوں گا تو میرے ساتھ بورا ہو جانا ہے اس لیے نسان دوسرے انسان کے ڈر سے جھوٹ بول دیتا ہے اور انسان یہ نہیں سوچتا کہ خدا کہ ڈر سے وہ سچ نہیں بولتا جبکہ خدا نے کہا ہے کہ میں سچ کا ساتھ دوں گا سچ کے علاوہ کسی چیز کا ساتھ نہیں دوں گا اس لیے ناجانے ہملوگ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اور سچ بھی جانے ہیں پھر بھی ناجانے کیوں جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ بول کر خدا پاک کو ناراض کرتے ہیں اور یاد رکھنا سچ کبھی چھپتا نہیں ہے۔ وہ ایک نہ ایک دن سامنے آجاتا ہے اس لیے سچ بولنا ہی سمجداری ہے۔  اگر ہم کوئی غلطی کریں تو ہم لوگوں کو اس غلطی کو چھپانے کے  لیے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ کیونکہ ہمیں اس کی سزا ملے گی۔ ہمیشہ سچ بولو کبھی ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولو۔ جھوٹ اور سچ کے لیے قرآن و حدیث ہے کہ  ( جھوٹ افتراء تو وہی کوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے بھی ہیں) اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات تو ہے کہ وہ لوگ جو جھوٹ بولتے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اسلام سے وہ لوگ اسلام کے دائرہ سے باہر ہیں۔ ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ  ( اے اہل ایمان! خدا سی ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو)۔ خدا پاک نے اس بات سے واضع کر دیا ہے کہ وہی لوگ کامیاب ہین جو سچ اور حق پر ہیں اور وہی لوگ پسند کیے جاتے ہین جو حق اور سچ والوں کے ساتھ ہوتے ہین اور اُن کا ساتھ دیتے ہیں۔ اسلام میں آیا ہے جہاں پر آپ کے والدین بھی غلط ہو تو وہاں بھی آپ سچ کا ساتھ دو اس بات سے یہی  سامنے آتا ہے کہ ہم سب کو ہر حال میں سچ بولنا ہے اور سچ کا ساتھ دینا ہے اگر دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونا ہے۔ اس لیے دعا ہے خدا جھوٹ جیسی لانت سے ہم اب کو پاک رکھے اور دور رکھے کیونکہ کہ خدا کی ناراضگی ہم سب کو تباہ برباد کر سکتی ہے۔اس لیے سچ بولنا ہم پر فرض ہے کب خدا ہماری زندگی واپس لیے لے اس لیے سچ بول کر اپنی آخرت بھی سنوار دو جس سے خدا ہم سب سے راضی ہوگا۔