جدید ٹیکنالوجی

  • جدید ٹیکنالوجی

     

    انسان جب پیدا ہوا تو اُس کے پاس عقل موجود تھی لیکن اس کا استعمال کیسے کرنا ہے یہ نہیں آتا ہے۔ پہلے زمان کے لوگ آپس میں کیسے باتیں کرتے تھے۔ پہلے زمانے کے لوگ آپس میں اشاروں میں باتیں کرتے تھے۔ انسان پہلے زمانے میں مشکل میں ہوتا یہ پھر خوف کا پیغام کسی کو دیناہوتا تو  کسی پہاڑ پر آگ لگا کر یہ ڈھول بجاکر پیغام دیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ترقی کی اور پھر ریڈیو اور اخبار کا بھی دور آگیا ساتھ ساتھ خط کے ساتھ لوگ اپنے پیغام  اپنے عزیزوں کو پہنچاتے تھے لیکن ان میں مہینوں لگ جاتےتھے اور وہ بات پورانی ہوجاتی تھی۔ انسان نے وقت کے ساتھ ترقی تو کی اُس میں کافی خامیاں بھی شامل ہیں خامیاں اصل میں دیکھا جائے تو انسان کے اندر ہے۔ کیوں کہ انسان جو ترقی کرتا ہے اور نئ نئ ایجادات کرتے ہیں نئ ٹیکنالوجی بناتے ہیں تو پھر ہم لوگ ان کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ آج کل کی زندگی میں انسان کی کمونیکیشن کی بغیر ممکن ہی نہیں۔ اس لیے  کمونیکیشن کے لیے انسان نے بہت سی ایپس بنادی ہیں جن کا انسان فائدہ تو اُٹھا رہا ہے ساتھ ساتھ غلط استعمال بھی کر رہا ہے جس سے دوسروں کی زندگی عزاب میں ڈال دی ہے، لوگوں کو نوکری کا دھوکا دینا ان سے پیسے لینا یہ سب جو کہ گناہ ہے ۔ اس کے علاوہ لوگوں کے اکاونٹ ہیک کر لینا۔ وہاں سے پیے نکال لینا اب سوچنا یہ انسان کتنا تیز ہے پہلے وہ بول نہیں سکتا تھا اور اب وہ کیسے کیسے کام کر رہا ہے۔ پہلے زمانے میں وقت لگتا تھا لیکن انسان کے اندر دل موجود تھا۔ اس کا پیغام بےشک دیر سے پہنچتا تھا لیکن لوگوں میں میں محب تھی لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد سمجھتے تھے۔ ان کے احساسات بھی ایک تھی۔ ایک دوسری کی مدد بھی کرتے تھی ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ پیسے کی فکر نہیں کرتے تھے۔ بڑے لوگوں کی عزت کرنا فرض سمجھتے تھے۔ 

    نئی نئی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انسان میں اخلاقیات ختم ہوگی ہے۔ انسان انسان نہیں رہا۔ انسان کی عزت و اخترام کے ساتھ ساتھ شرافت عبادت دیانت داری میں کمی آکررہی ہی ہے۔ ہم لوگ خود کو خود تباہ کررہے ہیں۔  موبائل کا استعمال کر کے ایک ہی کمرے میں رہ کر ہم لو گھر والوں سے دور ہیں اُن سے باتیں نہیں کرتے۔ موبائل میں توجہ دی ہوتی ہے۔ پاکستان کے کسی علاقہ کا واقع ہے کہ ایک فیمیل ٹیچر کوئی پیپر چیک کر رہی تھی کہ ایک دم رونے لگی اس کے شوہر نے رونے کی وجہ پوچی تو کہنے کہ پیپر میں لڑکے نے موبائل پر مضمون لکھا ہے کہ کاش میں موبائل ہوتا اور میں ہر وقت اپنی امی اور اپنے ابو کے ہاتھ میں ہوتا کیونکہ کہ میرے والدین مجھے وقت نہیں دیتے موبائل کو زیادہ دیتے ہیں۔ شوہر نے پوچھا اس میں رونے والی کیا بات ہےتو جواب آیا کہ یہ پیپر کسی اور کا نہیں ہمارے بیٹے کا ہے۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے اس موبائل نے ہم لوگوں کو کتنا دور کردیا ہے یہ عیسے تو اچھی چیز ہے لیکن لوگ اس کا زیادہ ترغلط ہی استعمال کرتے ہیں۔ ہم اب پاکستانی ہین اس کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہیں خدا پاک فرماتے ہیں رشتوں کو جوڑو نہ کہُتوڑو لیکن ہم لوگ کیا کر رہے ہیں ہم لوگ اپنے لیے خود عزب پیدا کررہے ہیں اس کا خدا ہم سے بدلہ لے گا ناراض ہوکر اور جب خدا ناراض تو باقی کچھ فائدہ نہیں۔ نئی ٹیکنالوجی  کو ہمیں اچھے سے استعمال کرنا چاہیے۔ ہم لوگ ان کو دوسروں کے لیے مشکل پیدا کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ 

    ان کا زیادہ استعمال انسان کی صحت کے لیے بھی اچھا نہیں ہے۔ انسان کی آنکھوں کی روشنی جانے کا خطرہ ہوتا ہے جو کہ خدا کا دیا ہو خوبصورے تحفہ ہے۔ انسان موبائل کا استعمال کرکے بہت سی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ انسان راتوں کو وقت پر نہیں سوتا جس اے انسان کمزور ہوجاتا ہے اور بیمار ہوجاتا ہے۔ اپنی جان کے ساتھ خود ظلم کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے اس کو خدا بھی ناپسند کرتے ہیں اور اسلام میں وقت کی پابندی اور خاص کر رات کو سونا وقت پر اسلام میں اس کا خاص حکم آیا ہے۔ 

    موبائل کا استعمال کر کے انسان تعلیم سے دور ہوگیا ہے انسان اب وہ تعلیم نہیں حاصل کر سکتا جو اس کو حاصل کرنی چاہیے۔ موبائل نے  انسان سے اس کی زندگی کا اصل مقصد چھین لیا ہے۔ بچے تعلیم نہیں لے رہے ساری رات موبائل کے ساتھ کھیلتے ہیں اور صبح اسکول کالجوں میں نہیں جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگ اسلام سے بھی دور ہو رہے ہیں اسلام کی تعلیمات سے بھی دور ہورہے ہیں نہ ہمیں نماز کا پتا ہوتا ہے کس وقت ہوتی ہے جو کہ بہت گناہ کی بات ہے اور خدا اس کو ناپسند فرماتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اچھی چیز بھی ہی لیکن ہم لوگ خد اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ جس سے ہم لوگوں کو پرشانیوں ہوتیں ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بیغر انسان کی زندگی سکون کی ہوتی ہے نہ کسی کا ڈر نا کو پرشانی۔  انسان نے وقت جے ساتھ ساتھ ترقی تو کی ہے لیکن خود کے لیے گلے میں رسی باندھ دی ہی کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا کسی کے لیے اور اس بات کا احساس انسان کو تب ہوتا ئے جب اس کے اُولاد اس کے ساتھ ایسا کرتی ہے۔ ہم لوگوں رشتوں کی پہچان کرنی ہوگی ہم لوگوں کو اس ٹیکنالوجی کا اچھا سے استعمال کرنا ہوگا۔  ان سے دنیا کو فائدہ دینا ہوگا کیونکہ یہ سب ہمارے لیے بنی ہیں اور ہم لوگ ہی ان سب کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ دفتر میں لوگ کمپیوٹر کے ساتھ لگے رہتے ہیے اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے اس لیے کہا جاتا ہے جہاں یہ ٹیکنالوجی زندگی کا سکون ہیں وہاں ہی یہ سب عزاب سے بھی کم نہیں۔ ہم لوگوں نے خود ان کو عزاب بنا کر رکھا ہے جہاں انسان محنت کرکے بہت کچھ بناتے ہیں ہم لوگوں کی آسانی کے لیے ہی کہ ہم لوگ ان سب کا استعمال کر کے اپنے زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی بھی آسان بنائیں۔ ان ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم لوگ ایک دوسرے سے جوڑے رہیں۔ ہم لوگوں کے رشتےدار جو دور رہتے ہیں اب اُن کے ساتھ رابطے آسان ہوگے ہیں۔ ہم لوگ سیکنڈ کے اندر اندر کال کر سکتے ہیں۔  کای نے کچھ خریدنا ہو وہ گھر بیٹھ کر سب کچھ خرید سکتا ہے۔ کچھ مانگوانا ہو گھر بیٹھے آرڈر کر سکتا ہے اور وہ چیز گھر آجائے گی یہ سب آسانی کس وجہ سے ہے صرف اور صرف ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہے اگر ہم لوگ ان کا استعمال اچھے سے کیا۔اس کے ساتھ ساتھ آئن  لائن قرآن پاک بھی پڑھایا جاتا ہے دنیا ہے ہر کونے کونے میں۔ اس کے علاوہ گوگل سے ہمیں ہر چیز میلتی ہے تعلیم سے متعلق اگر ہم لینا چاہیں یعنی اب کچھ مل جاتا ہے لیکن ہم لوگ ہ اس کا ٹھک استعمال نہین کرتے جو کہ اچھی بات نہیں ہے۔ ہم لوگوں کو چاہیے خود بھی اچھی چیزی پڑھے اور دوسروں کو بھی اس چیز کی تعلیم دیں۔ انٹرنیٹ ایک اچھی چیز ہے لیکن اس معاشرے کے کافی لوگوں نے اس کا غلط استعمال کرنا شروع کردیا ہے جاسے معاشرہ  مختلف برائیوں کی طرف جا رہا ہے جس سے خطرہ زیادہ ہو رہاہے۔ ویسے دیکھا جائے تو ہم لوگ کیونکہ اچھی اور سائنسی چیزوں کا برا استعمال کرتے ہیں۔  دیکھا جائے تو یہ چیزیں فائدہ دیتی ہیں۔ دیکھا جائے انسان کی ایجادات کو اتنی ہیں کہ انسان کی عقل دھنگ رھ جاتی ہے۔ یہ اب کی سب ٹیکنالوجی ہی ہیں۔ جو انسان نے اپنی محنت کر کے ایک گھر ایک گاوں کی ماند بنا دیا ہے۔دنیا کو ہم سے ملا دیا ہے ہمارے پیاروں کو قریب کر دیا ہے۔ جب چاہیں کال کر لیں۔ یہاں ہیں تو دنیا کے کسی بھی کونے کی خبریں سن سکتے ہیں جان سکتے ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ دیکھا جائیے آجکل کے ہرکام میں سائنس ہی سائنس ہے اس کے بیغر زندگی ادھوری ہے ہر شعبہ میں اب ٹیکنالوجی نے ہی کام کیا ہے۔ اور ٹیکنالوجی ہی کام کر رہیں اس نے ہم لوگوں کے کام اسان بنا دیے ہیں۔ ویسے کہا جاتا ہے کا ماضی میں لوگ کم کیا کریں گے سب ریبورٹ ہوں گے اور لوگ کم ہی کام کریں گے ویسے ایسا نہ ہی ہو تو اچھا ہے کیونکہ اس سے غربت بھی آجاتی ہے۔ ٹیکنالوجی سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں معاشرے کامیاب ہوتے ہیں۔ اور ملک کا نام بھی روشن ہوتا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت  ہمیں اپنی ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جدید ایٹمی ہتھیار دستیاب ہیں جو کہ ملک کے لیے اچھی بات ہے۔ ان سب کا استعمال ہم سب کا فرض ہے لیکن جائز استعمال کیا جائے جس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ارو دوسروں کو بھی فائدہ دیا جائے۔ کیونکہ سائنس کسی چھوٹی دنیا کا نام نہیں ہے یہ ایک نا ختم ہونے والی دنیا ہے