نماز اور زکوۃ

  •  

    نماز اور زکوۃ

    خدا کا شکر ہے کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے جہاں پر ہم مسلمان آزادی کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ سب خدا کا شکر ہے۔ بہت سے ممالک ایسے ہیں جو مسلم ہیں لیکن وہ اپنی شناخت برقرار نہ رکھ سکے۔ ہماری حکومت جو کہ مسلم ہے اور پاکستان کا آئین بھی اسلامی ہے جس پر چل کر کام کیا جاتا ہے۔ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں چاہیے کہ ہم سب خدا کو بھی یاد کریں خدا کو کیسے یاد کیا جاتا ہے ویسے تو خدا پاک ہر جگہ موجود ہیں لیکن نماز وہ ذریعے ہے کہ جس سے انسان خدا سے گفتگو کرتا ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو بہت کم لوگ نمازی نظر آتے ہیں رمضان میں مساجد میں جگہ نہیں ہوتی لیکن جب رمضان کا مہینہ چلا جاتا ہے تو لوگ مسجد کا راستہ بھول جاتے ہیں جو کہ خدا کو ناپسند ہے۔ آذان کی آواز آتی ہے تو لوگ باتوں میں لگے رہتے ہیں خدا پاک کا فرمان ہے کہ جو شخص آذان کے درمیان بولا اُس کو کلمہ نصیب نہیں ہوگا۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ ہم لوگ باتیں کرتے ہیں اور ہم لوگوں کو کلمہ نصیب نا ہوا تو دوزک میں جائیں گے۔ لوگ بازاروں میں کاروبار کے ساتھ لگے رہتے ہیں اُن کو نماز کا پتا ہی نہیں اور جب اُن کو نماز کا کہا جائے تو بولتے ہیں آپ کی اپنی قبر ہے ہماری اپنی آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔ یہ سب افسوف ناک بات ہے کہ ایسے جوابات ایک مسلم ملک میں سننے کو مل رہیے ہیں۔ دیکھا جائے جو لوگ ہماری طرح نامز ادا کرتے ہیں اس میں بھی کتنی سچائی ہے. بہت سے لوگ دیکھاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں ناجانے کس کو دیکھاوا دیکھا رہے ہیں کیونکہ کہ خدا دلوں کہ حل جانتا ہے نیت کہ مطابق حساب کتاب کرتا ہے۔ ہم مسلم ملک ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہممیں سے مسلمان کوئی نہیں۔ تب ہی ہمارے ملکوں میں فساد پیدا ہوتے ہیں ملک میں۔ غربت ہوتی ہے۔ سیلاب جیسی مشکلات آتی ہے۔ اب سوچنا ہے اس بات پر کیسے قابو پایا جائے۔ کیونکہ یہ کام کسی ایک آدمی کا نہیں اور نہ عوام کی بات ماننے والا ہے کوئی۔ اس لیے حکومت کو اس بات پر کمیٹی بنانی چاہیے اور اس پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ پاکستان کو عوام کو یاد دلویا جائے کہ یہ ملک پاکستان مسلم ملک ہے جو کہ اسلام کے نام پر بنا ہے اب حکومت ہی ہے جو عوام میں سختی کہ ساتھ عمل کروائے کہ نماز ادا کی جائے جو لوگ نماز ادا نہیں کرتے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں خدا بھی ان سے ناراض رہتا ہے پھر وہ لوگ خدا سے گلے کرتے ہین کہ کاروبار ٹھیک نہیں ہے غربت ہے۔ کام میں  بچت نہیں۔ یہ لوگ بیماری کا گلے کرتے ہیں۔ اس لیے حکومت کوچاہیے کہ اس پرعمل کر کے جلد سے جلد لوگوں کو اسلام کی راہ پر لگایا جائے۔ قرآن پاک میں آیا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو۔ ہر جگہ پر خدا نے حقوق اللّٰہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی ساتھ رکھا ہے کہ زکوۃ ادا کرو۔ پاکستان میں غربت دن بہ دن زیادہ ہو رہی ہے جس کی وجہ ہے کہ پاکستان میں لوگ جو زکوۃ دینے کی حیثیت رکھتے ہیں وہ لوگ زکوة نہیں دیتے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں غربت ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں بچے پڑھ بھی نہیں سکتے ۔ وہ لوگ کوڑاکرکٹ میں سے کاغذ جمع کرتے ہیں پھر بیچتے ہیں کچھ بچے فیکٹریوں میں کام خرتے ہیں اور اپنی فیملی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔  یہ سب دیکھ کر انسان کو رونا آتا ہے۔ کسے پاکستان میں ماصوم بچوں کا حال نہیں کھیلونوں سے کھیلنے والے ہاتھ فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں۔ سالانہ پاکستان میں غربت کی وجہ سے ہلاکتیں ہورہی ہیں ۔ خدا پاک فرماتے ہین جو انسان زکوةدیتا ہے اس کے مال میں برکت ہوتی ہے اس لیے ہم لوگ ناجانے کیوں زکوة نہیں دیتے۔  ار  صحاب نصاب زکوۃ دینا شروع کر دیں تو ملک پاکستان میں غربت نہیں ہوگی لوگ خزی کی زندگی گزاریں گے  اور کوئی کسی سی بھیک نہیں مانگ سکے گا۔ بھیک ایسی لعنت ہے کہ خدا بھی اس انسان سے ناراض ہوتا جو کام نہیں کرتا اور بھیک مانگتا ہےانسان کو غربت ہی بھیک مانگنے پر مجبور کرتی ہے کہ پاکستان میں سٹکوں پر دیکھا جائے تو سب لوگ بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں اور یہ سب لوگ اپنے گھر کو چلا رہے ہوتے ہیں لیکن یہ سب کہ سب مجبور ہیں کہ یہ لوگ بھیک مانگتے ہیں۔ حکومت نہ جانے ایسے لوگوں کہ مدد کیوں نہیں کرتی عوام غربت کی آواز تو آٹھاتے ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں کہ کوئی ان کی مدد کریے۔ جا کی وجہ اے لو روڈ بند کر دیتے ہیں احتجاج ہوتے ہیں اور تو اور  لوگ دل ہار کر خودکشی کر دیتے ہیں۔ یہ سب کب تک ہوگا اور کب تک عوام برداشت کریں گے۔ کہ حکومت غربت پر قابو نہیں پارہے۔ نہ کہ پاکستان کہ صحاب نصاب لوگ زکوۃ نہیں دیتے۔ ان کے مال میں بھی برکت نہیں ہوتی جو لوگ خدا کا کہنا نہیں مانتے وہ لوگ کیسے مان لیتے ہیں کہ وہ لوگ کامیاب ہوں گے اور خدا پاک ان سے راضی  ہوگا۔  خدا پاک نے زکوۃ پر بہت زور دیا ہے۔ پاکستان کا مذہب اسلام ہے اور اسلام میں زکوۃ کو  اہمیت دی ہے اور جو لوگ اس سے انکاری ہیں وہ عزاب میں جائے گا۔ پاکستان میں وہ لوگ جو حکومت کی نوکری کرتے ہیں تو وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ انکمٹیکس ادا کرنے سے ان کی زکوۃ ادا ہوگی ہے لیکن ایسا نہیں کہ ان کی زکوۃادا ہو جائی انکم ٹیکس جو ہے وہ حکومت اور دنیاوی معاملہ ہے اور زکوۃ خدا کہ جو کہ صحاب نصاب کو دینا ہی دینا ہے۔ جو  نہیں دیں گا وہ عزاب پائے گا۔ان سب سے پاکستان میں خوشخالی آسکتی ہے حکومت کواسلام کا قانون جو ہمارے آئین میں تو موجود ہے لیکن اس پر آج تک ستر سال ہوگے ہیں پاکستان کو وجود میں آئیے ہوئے۔ کای نے اس پر عمل نہیں کیا اور  پاکستان کا نظام خراب رہا ہے۔ کیسی نے اس پر عمل نہیں کیا عوام بچاری آواز اٹھا اٹھا کر تھک گی ہے اب وہ بھی جانتی ہے کہ ان کہ آواز کو کوئی نہیں سنے گا۔ حکومت کو ان دو کاموں  پرعمل کرنا ہوگا کہ ان کے لیے کمیٹی بنائی جائی جو عوام میں نماز کا شعور لے کرآئیںاور زکوۃ کہ نظام کہ ٹھیک کیا جائے کہ پھر کوئی پاکستان کا بچہ آدمی یہ عورت غربت کاشکار ہو کر اپنی  زندگی کی بازی ہار جائے۔ ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اس ملک کہ لیے اس وطن کے لیے اس ملک کو خوشحال بنانا ہے۔ نماز ادا کرنے سے انسان کو سکون ملتا ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔  انسان سے قبر میں بھی نماز کاسوال ہوگا۔ سب سے پہلا سوال ہی نماز کا ہوگا۔ اس بات کی فکر انسان کو لازمی کرنا چاہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس ملک میں نمازی کا نا ہونا افسوس ناک بات ہے۔ اور اس ملک کہ مولوی بھی سیاست میں چلے گے ہیں ان کو اب دین کے درس دینے میں کوئی دلچسچی نہیں۔ جو کہ افسوس ناک بات ہے اور ملک کے لیے حطرناک بات ہے کہ ملک میں بہران ہی تب آتا ہے کہ خدا کے حکم سے انکاری ہوگے تو خدا سے دعا ہے کہ خدا اس ملک میں اسلامی نظام نافذ ہونے میں مدد دیے۔ لوگوں میں شعور لے کر آئے کہ زکوۃ دیں اور اس ملک سے غربت کا خاتمہ ہو۔ جب ہم نے یہ ملک پاکستان حاصل کیا تو اسلام کے نام پر اور پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔ خدا پاک نے نماز اور زکوة پر زور دیا ہے کہ دونوں اسلام میں اہمیت کہ حامل ہیں۔ لیکن پاکستان کہ لوگ اس سے نا جانے کیوں انکاری ہین اور خود کو عزاب میں دیکیل رہیں ہیں ان لوگوں کی وجہ سے ہمارے ملک میں آمن نہیں ہے نہ بارشیں ہوتی ہے۔ اور یہ لوگ ہیں پھر گلے بھی کرتے ہیں یہ ہوگیا وہ ہوگیا ناجانے کس زبان کے ساتھ گلے کرتے ہی یہ خدا سے۔ اب بھی وقت ہے خدا معاف کرنے والا ہے ایک دفعہ پکارو اس کو لیکن ہم میں سے کوئی نہیں پکارنے والا کہ ہم لوگ خدا کو بھول گیں ہیں جس سے ہم نقصان میں ہیں حکومت سے اپیل کی جاتی ہے غربت کی معاملے پر کوئی حل کیا جائے اور پاکستان کی غربت پر قابو پایا جائے اور لوگوں سے بھی اپیل ہے کہ زکوۃ دیا کریں جس پاکستان میں غربت کم ہو اور پاکستان کا ہر ایک انسان خوشی کی زندگی گزارےباقی نماز ادا کرنا انسان کا زاتی فیل ہے انسان کو اس پر توجہ دینا چاہیے۔ ہم مسلمان ہیں جس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ہمنے مسلم گھر اور مسلم ملک میں آنکھ کھولی ہے اس کا ہم سب کو شکر ادا کرنا چاہیے خدا سے دعا ہے خدا ہم سب کو زکوۃ ادا کرنے اور  نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین