اردو کی تدریسی اہمیت

  • اردو کی تدریسی اہمیت 

    زندہ وطن میں روح ثقافت اسی سے ہے

    آزادی وطن کی علامت اسی سے ہے

    اب کا نہیں یہ ساتھ یہ صدیوں کا ساتھ ہے

    تشکیل ارض پاک میں اردو کا ہاتھ ہے

    درس و تدریس کے لئے وہی زبان موثر ہوتی ہے جس کو طلبہ باآسانی پڑھ سکیں، لکھ سکیں، سمجھ سکیں اور بول سکیں ۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی مثال لے لیجئے ہر جگہ وہی زبان ذریعہ تعلیم کے طور پر رائج ہے جس کو وہاں کے عوام کی اکثریت سمجھتی اور بولتی ہے جیسے انگلستان میں انگریزی، جاپان میں جاپانی، چین میں چینی، جرمنی میں جرمن، غرض ہر ملک میں وہی زبان تعلیم کا ذریعہ ہے جو کہ وہاں کے مقامی باشندے بولتے ہیں۔

    اردو ہماری قومی زبان ہے یہ واحد زبان ہے جو پشاور سے لے کر بھارت تک بولی اور سمجھی جاتی ہے قائداعظم نے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

    "پاکستان کی قومی زبان اردو اور صرف اردو ہوگی "

    دنیا بھر کے ماہر نفسیات اور ماہر تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اپنی زبان کو ترک کر کے کسی اجنبی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے تو اس سے ذہنی صلاحیتیں شل ہو کر رہ جاتی ہیں غیر زبان سے ہمیں جو معلومات حاصل ہوں گی ان سے ہماری تخلیقی قوتوں میں تحریک نہیں ہوتی۔

    انگریزی زبان ایک بین الاقوامی زبان ہے لیکن ساری قوم کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کرنا زیادتی ہے یہ تو ایسے ہی ہوگا جیسے انگریز کو زبردستی اردو پڑھانا اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال طلبہ کی اکثریت اس غیر زبان کی وجہ سے فیل ہو جاتی ہے ۔ ایک انگریز بچہ 5 سال میں جتنی انگریزی سیکھ لیتا ہے ہماراآج کا طالبعلم اتنی انگریزی دس سال میں بھی نہیں سیکھ پاتا۔ حقیقت صرف یہ ہی کہ ہم جتنا عرصہ دوسرے ی زبان سیکھنے میں ضائع کر دیتے ہیں اگر یہی عرصہ ہم اپنی قومی زبان کو سیکھنے میں لگائیں تو اتنے عرصے میں ہم تمام اہم علوم پر دسترس حاصل کر سکتے ہیں۔

    ذریعہ تعلیم وہی زبان بن سکتی ہے جس کا دامن کشادہ اور ذرخیز ہو اور ہماری زبان اردو میں یہ سب خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ اردو کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ تعلیم و تدریس کا وسیلہ بنایا جائے تمام دفاتر، کارخانوں، کاروباری اداروں اور سرکاری دفتروں میں اسے نافذ کیا جائے ۔ انگریزی زبان نے اردو زبان کا جو حق دبا رکھا ہے اسے بحال کیا جائے۔

    المختصر اردو زبان کا دامن بہت کشادہ ہے، انگریزی زبان کو زبردستی قوم پر مسلط نہ کیا جائے کیونکہ اپنی زبان میں ہم جملہ مضامین کو درست طریقے سے سمجھ سکتے ہیں اور یہی تعلیم و تدریس کا مقصود ہے اور یہی ہماری ثقافت کی روح اور آزاد وطن کی علامت ہے۔

0 comments