پاکستانی طالبان او ر افغانی طالبان کیسے پیدا ہوئے اورکیا ان کے

  • پاکستانی طالبان او ر افغانی طالبان کیسے پیدا ہوئے اورکیا ان کے مقاصدایک ہی ہیں ؟
    اگر ہم بات کریں افغان طالبان اور پاکستان طالبان کے بارے میں تو ہمیں اب پتا چلتا ہے کہ ان دونوں کی سرگرمیوں سے کہ اب ان دونوں گروپوں کے مقاصد مختلف ہیں اس لئے ہم یہ نہیں کہ سکتے کے ان دونوں کے مقاصد ایک جیسے ہیں اگر ہم دیکھیں کہ تحریک طالبان پاکستان کی تمام شدت پسند کاروائیاں پاکستان میں ہوتی ہیں یہ جتنا بھی خون بہاتی ہے پاکستان میں بہاتی ہے اور اس وقت تک لاکھوں پاکستانیوں کو یہ شدت پسند تنظیم شہید کر چکی ہے۔اور اگر ہم بات کریں افغان طالبان کی تو ان کی کاروائیا ں صرف اور افغانستان میں ہوتی ہیں وہ اپنے ملک میں حملہ آور ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کے خلاف لڑتے ہیں ۔سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں کہ طالبان کی بنیاد کہا سے پڑی چلیں ہم چلتے ہیں 1979ء میں جب سابق سویت یونین نے طاقت کے نشے میں افغانستان پر حملہ کر دیا اور افغان لوگو ں پر ظلم و ستم کرنا شروع کر دیا ۔سابق ساویت یونین نے افغانستان میں بے گناہ لوگوں پر بے شمار بم بر سائے اس کے بعد سابق سویت یونین کامنصوبہ پاکستان پر قبضہ کرنے کا تھا اس کی اصل وجہ یہ بھی تھی کہ سویت یونین گرم پانیوں پر رسائی چاہتا تھا لیکن پاکستان نے امریکا کے ساتھ مل کر سویت یونین کے ساتھ ایسی گیم کھیلی کہ اس وقت کے سوپر پاور کو کئی حصوں میں تقسیم ہوگیا ۔ جس وقت سابق سویت یونین نے افغان سرزمین پر حملہ کر دیا تو دنیا بھر سے مسلمان جہاد کرنے کے لیئے افغانستان میں آئے ان سب جہادی گروپوں کو پاکستان نے کھل کر سپورٹ کیا اس کے علاوہ امریکا کی مدد سے پاکستان نے ان جہادی گروپوں کو پاکستان کی سرزمین پر ٹریننگ بھی دی گئی ان جہادی گروپوں کو سپورٹ کرنے میں پاکستان کے اس وقت کے صدر نے اہم کردار ادا کیا جن کا نام جرنل ضیاء تھا ۔جرنل ضیاء یہ بات سمجھ چکے تھے کہ اگر سابق ساویت ہونین کو افغانستان میں نا روکا گیا تو اس کے بعد یہ کسی بھی بہانے سے پاکستان پر حملہ کردے گا اس لئے انہوں نے دنیا بھر سے آنے والے مجاہدین کو افغانستان میں جہاد کرنے کے محفوظ پناگاہ فراہم کی ۔اس طرح یہ لوگ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں رہتے تھے اور ضرورت پڑنے پر سابق سویت یونین کی فوج پر حملہ کردیتے تھے یہ کام مسلسل 10سا ل تک جاری رہااور دس سال بعد مجبورََا فغانستا ن سے جانا پڑا ۔اس وقت جو لوگ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف جہاد کرتے تھے ان کو افغان طالبان کا نام دیا گیا یہ وہ لوگ تھے جن کو پاکستانی حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام نے بھی د ل کھول کر سپورٹ کیا تھا ان لوگوں کیلئے پاکستان کے لوگو ں کے دل میں ایک احساس تھا کیوں کہ یہ لوگ افغانستان میں جہاد کرتے تھے مسلسل دس سال جنگ لڑنے کے بعد آخر 1989ء میں سابق سویت یونین کئی حصوں میں تقسیم ہوگیااور ان کی فوج واپس چلی گئی۔ روس کے ٹوتنے کے بعد اس کو مجورََا اپنی فوج افغانستان سے واپس بلانا پڑا ۔اس کے بعد افغان طالبان اور دوسرے گروپوں نے افغانستان میں اپنے ااپنے علاقے میں اپنی اپنی حکومت قائم کر لی یہ تو تھی افغان طالبان کی کہانی کے وہ کس طرح وجود میں آئے اس کے بعد اب ہم بات کرتے ہیں کہ پاکستانی طالبان کون ہیں اورکن لوگوں کے مفادات کا تحظ کر رہے تھے۔سویت یونین جو کے اپنے وقت کا سوپر پاور تھا اس کے ٹوٹنے کے بعد اگلہ سوپر پاور امریکا بنا اور اس نے اپنے مقصد اور اپنا اسلحہ استعمال کرنے کے لئے 9/11 کا ایک ڈرامہ رچایا اور اس کا الزام اسامہ بن لادن پر لگا کر افغانستان پر حملہ کر دیا امریکی حملے کے بعد ایک بار پھر افغان طالبان اور مختلف دوسرے منظم گروپ روپوش ہو گئے امریکہ نے افغان سرزمین پر قبضہ کرنے کے بعد وہا ں اپنی حکومت قائم کر لی اور وہاں افغانستان کے معدنیات کو نکال کر اپنے ملک بھیجنا شروع کر دیا اس کے بعد وہ گروپ یا افغان طالبان جو کہ امریکا کے حملے کے وقت روپوش ہوگئے تھے اب وہ تمام گروپ ایک بار دوبارہ منظم ہونے لگے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملے کرنے لگے ۔افغان طالبان کے ان حملوں میں روز آئے دن تیزی آتی گئی اور روز آئے دن امریکا اور اس کے اتحادیوں کا جانی اور مالی نقصان بڑتا گیا اور جب امریکا کا کنٹرول کمزور ہونے لگا تو اس نے اپنے ہی اتحادی پاکستان کو الزام دے دیا کہ پاکستان افغانستان میں افغان طالبان کو اور دوسرے گروپوں کو امریکا کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔اب اس کا بدلہ لینے کے لیے امریکا نے بھارت او ر افغانستان کو ساتھ ملا کر پاکستان میں سرگرم گروپوں کو پاکستان کے ہی خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ۔امریکا نے بھارت کو ساتھ ملا کر پاکستان کے ساتھ ایک خفیہ جنگ کا آغاز کر دیا لیکن اس بات کا علم پاکستان کو نہیں تھا کہ امریکا اور بھارت ہمارے ساتھ کیا بڑی گیم کھیل رہا ہے۔بھارت تو شروع دن سے ہی پاکستان کو ترقی کرتا برداشت نہیں کر سکتا اس بار بھارت اور اس کے اتحادیوں کو یہ علم تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے اس لئے اب ہم پاکستان پر سیدھی جنگ مسلت نہیں کر سکتے اس لیے ان تمام دشمن ممالک نے مل کر پاکستان میں ایک خفیہ جنگ مسلت کر دی اس جنگ میں افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی۔بھارت اور امریکا نے ملکر پاکستان میں دہشت گرد گروپس کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا بھارت نے پاکستانی دہشت گرد جو کہ پاکستان کے خلاف تھے ان کو پیسہ دیا اور ان کو افغانستان میں ٹریننگ دی تاکہ وہ پاکستان کو ذیادہ سے ذیادہ نقصان پہنچا سکے بھارت اس کام میں افغانستان نے بھارت کو کھل کر سپورٹ کیا اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس تمام سازش میں افغان سرزمین استعمال ہوئی جب بھی پاکستان میں کوئی بھی دھماکہ ہوتا تو لوگ یہ سن کر بہت حیران ہوتے کہ اس کی ذمہ داری کوئی نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان قبول کرتی تھی اس پر پاکستانی عوام بہت حیران ہوتی تھی ااپنے ہی لوگ کس طرح اتنا خون خرابہ کر سکتے ہیں پہلے تو پاکستان عوام اور فوج چاہتے تھے کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالے جائیں لیکن تحریک طالبان پاکستان جو کہ پاکستان کے دشمن کی پیداوار تھی ہر بار مذاکرات کر کے پاکستان کے کسی نا کسی علاقے پر حملہ کر دیتے تھے جس کی وجہ سے پاکستانی عوام کو سخت پرشانی کا سامنہ تھا اور دوسری طرف دشمن بھارت کی نظر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر تھی کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ایک ناکام ریاست ثابت کر کے اس سے اس کے ایٹمی اثاثے چھین لیئے جائے اس کے بعد آرام سے پاکستان کر فتح کیا جا سکتا ہے کیونکہ بھارت کو اصل خوف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے ہے۔اس مقصد کے لئے امریکا نے بھارت ،افغانستان اور یہاں تک کہ ایران کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اگر ہم ذرا سا غور کریں تو جن دنوں پاکستان انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا تھا ہم دہشت گردی کا شکار تھے ان دنوں میں ہی بھارت نے پاکستان کو دھمکی دی کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے اس کے کچھ دنو ں بعد یہی بیان افغانستان نے بھی دیا اور سب سے بڑھ کر پاکستانی عوام کو حیران کیا ایران نے کہ جب ایران کے آرمی چیف نے یہ بیان دیا کہ پاکستان خطے میں دہشت کردی کو سپورٹ کر رہا ہے یہ سب پاکستا ن کے لیے انتہائی پریشان کن صورت حال تھی اس کے علاوہ امریکا تو پاکستان کو پہلے ہی سے یہی کہتا آرہا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو سپورٹ کرتا ہے ۔ان دنوں میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے جو کہ انتہائی بہادر اور دلیر تھے۔ان دنوں میں پاکستا ن میں ایک انتہائی افسوس ناک سانحہ (اے پی ایس ) پشاور ہوا جس نے پوری پاکستانی قوم کے دل افسردہ کر دیئے اس کے بعد پاکستان حکومت نے پاک آرمی کے ساتھ مل کر پاکستان میں موجوو تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلاامتیاز کاوائی کا آغاز کر دیا ۔پاکستان آری نے بہت بڑے پیمانے پر اپریشن (ضرب عضب) لاؤنچ کر دیا اس اپریشن میں پاکستانی عوام نے پاکستان فوج کو کھل کر سپورٹ کیا اور پاک آرمی اس جنگ میں کامیابیاں حاصل کرتی گئی اس جنگ میں جب پاکستانی آرمی کامیابیاں حاصل کر رہی تھی تو اس جنگ سے دھیان ہٹانے کے لئے بھارت نے مشرقی بارڈر پر حالات خراب کرنا شروع کر دیئے اس پر ثابت ہو گیا کہ بھارت نہیں چاہتا پاکستان میں امن ہو اس کے کچھ دنوں بعد ہی پاکستان نے بلوچستان سے بھارت کے حاضر سروس نیول افیسر کلھبوشن یادیو کو پکڑا یہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ تھا اس کا کام پاکستان میں دہشت گردی کو سپورٹ کرنا تھا اس کو پکڑنا پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی اس نے سب کچھ پاکستان کو کھل کر بتا دیا کے بھارت پاکستان میں کیا کچھ کر رہا ہے۔اب جب کہ پاکستان اس جنگ میں بہت ذیادہ حد تک کامیاب ہو چکا ہے بس یہی کامیابی دشمن ممالک سے دیکھی نہیں جاتی خاص طور پر امریکا سے کامیابی برداشت نہیں ہو پارہی کیونکہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ پاکستان اکیلے ہی اس جنگ میں کس طرح کامیاب ہو گیا ۔امریکا کواپنے چالیس اتحادیوں کے ساتھ افغانستان میں جنگ لڑتے ہوئے تقریبََا سترہ سال ہوگے ہیں لیکن ابھی بھی امریکا افغانستان کامیاب نہیں ہو رہا ہے اور آج بھی امریکا افغان طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔یہ بات توثابت ہو چکی ہے کہ امریکا کبھی بھی پاکستان کی مدد کے افغانستان میں کامیاب نہیں ہو سکتا ۔اب جب پاکستان نے افغانستان کے باڈر پر باڑ لگا رہا ہے تا کہ پاکستا ن میں افغانستان سے دہشت گرد داخل نہ ہو سکے اب یہ باڑ بھی افغانستان اور امریکا اور انڈیا سے برداشت نہیں ہو پا رہا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے افغان بارڈر کو ذیادہ سے ذیادہ محفوظ بنائے تا کہ پاکستان میں کوئی بھی دہشت گردانہ واقعہ نہ ہو سکے۔

0 comments