فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں ۔۔۔۔۔

  • مجھے ایک کتاب پڑھنے کا موقع ملا ، اس کتاب کا نام تھا ؛صلاح الدین ایوبی ۔ اس کتاب نے میرے چودہ تبک روشن کر دیے ، اس میں مسلمان سپاہ کی جرات و بہادری کی عظیم الشان مثالیں ملتی ہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کی یہ کتاب کسی مسلمان نے نہیں لکھی بلکہ اس کے مصنف ایک عیسائی ہیں ۔ میں نے اس کتاب کا جب بغور مطالعہ کیا ۔ تو مجھے کا فی وہ باتیں نظر آئیں جس سے آج کے مسلمان عاری ہیں ۔ مثال کے طور پر صلاح الدین خود ایک کرد تھے لیکن ان کے لشکر میں ترک بھی سر فہرست تھے ۔ اسی طر ح باقی کافی مسلمان ممالک کے لشکر اس جنگ میں شامل ہوئے ۔ اس لشکر جرار میں ہر رنگ اور نسل کے مسلمان شامل تھے اور ان کو صلاح الدین کی قیادت پر اعتماد تھا ۔ ایک اور واقعہ بیان کر تا ہوں کہ ، عیسائیوں کا ایک بڑا بہادر سردار تھا ، جس کا نام رچرڈ تھا ۔ اس نے مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچایا تھا ۔ اس نے صلاح الدین کو خط لکھا کہ بیت المقدس سے اپنے ملک واپس چلے جائیں۔ ورنہ آپ کو شکست سے ہمکنا ر ہونا پڑے گا ۔ اس پر صلاح الدین نے یہ جواب دیا ۔ ’’ ہم یرو شلم آپ سے بھی زیادہ مقدس سمجھتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺکی معراج آسمانی کی ابتداء یہیں سے ہوئی تھی ۔ اور ساری امت کو قیامت کے دن یہیں جمع کیا جائے گا ۔ یہ خیال نہ کریں کہ ہم کبھی یہ مقدس مقام آپ کے حوالے کریں گے ۔ یاد رکھیں کہ یہ سر زمیں ہماری ہے اور آپ لوگ حملہ آوروں کی حیثیت سے یہاں وارد ہوئے ہیں ۔ اس لیے آپ کو اس سے دست کش ہونا پڑے گا ۔ اگر آپ نے ایک مرتبہ اسے فتح کر لیاتو اس سے آپ کو مستقل قبضہ کا حق نہیں پہنچتا ، آپ نے پہلی مرتبہ بھی اچانک دھاوا کرکے اس پر جما لیا تھا ۔ آپ کی کامیابی کی وجہ مسلمان امیروں کا آپس میں باہمی نفاق اور کمزوری تھی ۔ اب جب تک جنگ جاری رہے گی با فضل تعالی ہم آپ کو اس شہر سے ایک پتھر بھی نہ ہلانے دیں گے ۔ صلیب الصلبوت ہمارے پاس رہے تو ہمیں فائدہ ہے ۔ اور اسلامی مفاد کی تقویت کے سوا ہم ہرگز اس سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ََِ۔‘‘
    ا س سب کو پڑھنے کے بعد میں اپنی کیفیت بیان نہیں کر سکتا ۔ ان کا جذبہ ایمانی اور انداز مسلمانی عجب تھا ۔ اتنی شدت تھی ان میں ایمان کی کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکی ۔ اور آج ہم کہا ں کھڑے ہیں اس کا ہم کو اندازہ لگانا ہے ۔ ہمیں اپنی گریبان میں جھانکنا ہے ۔
    شاید اس لیے اقبال نے کہا تھا ؛
    تھے تو وہ آباء ہی تمھارے مگر تم کیا ہو 
    ہاتھ پہ ہاتھ دہرے منتظر فرداں ہو                                  
    آج ہم مسلمان کہاں ہیں ۔ کہاں ہمارا نام ہے؟اور اس کی وجہ ہے ؟ان سوالوں کے جواب بہت آسان ہیں اگر ہم ان سوالوں کے جوابات جاننے کی سکت رکھتے ہیں تو ہمیں کوئی بھی طاقت دوبارہ اس مقام تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ 
    ُآئیے اب ہم ان سوال کے جواب ڈھونڈتے ہیں ۔ سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس مقام پر کیوں کھڑے ہیں کہ کوئی بھی اپنے مقصد کیلئے استعمال کر لے ؟ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے کہ ہمارے آباء آپس میں متحد تھے اور ان میں صرف اللہ کا ڈرتھا اور ہم آپس کے اختلاف میں ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں ،اور رونا تو یہ ہے کہ لڑ بھی کسی اور کی وجہ سے رہے ہیں ۔ اور جو لڑوا رہے ہیں وہ قرآن کا مطالعہ کر رہے کہ مسلمانوں کو کیسے کمزور کیا جاسکتا ہے ۔ وہ مسلمانوں کو اس راستے سے ہٹانے کیلئے جو قرآن میں ہے نئے نئے حربے آزما رہے ہیں ۔ جیسے انٹرنیٹ کے ذریعے مسامانوں کو روحانی طور پر پسپا کر رہے ہیں ۔ اور مسلمان بھی ا ن کی سازش میں جکڑتے جا رہے ہیں ۔ اس بارے میں غالب نے کیا خوب کہا تھا کہ :
    ایماں مجھے روکے جو کھینچے ہے مجھے کفر 
    کعبہ میرے پیچھے ،کلیسامیرے آ گے                                                
    صاف ظاہر ہے کہ ایمان روکتا ہے برائی سے جب کہ بے ایمانی رنگین ہوتی ہے تو وہ انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ 
    دوسری وجہ مسلمانوں کا آپس میں لڑنا ہے ۔ جب کہ مسلمان پہلے ہی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اب ان کو لڑواکر غیر مسلمان ان کو مزید کمزور کر رہے ہیں ۔ مسلمانوں کے اتحاد کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے اور مسلمانوں کو ابھی تک سمجھ ہی نہیں آرہی کہ ان کو ان حالات سے کیسے نکلنا چاہیے ۔ وہ ایک دوسرے سے قریب ہونے کی بجائے ایک دوسرے کو دوش دے رہے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں باقی دنیا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ 
    خیر ان حالات میں مسلمانوں کو ان دو چیزوں کا استعمال کرنا چاہیے ۔جو کہ قرآن اور حدیث میں بتائے گئے ہیں ، حدیث اور اللہ کی رسی (قرآن مجید)َ َ ۔ اسی سے ان میں جذبہ ایمانی اور انداز مسلمانی پیداہوگا ۔ 
                                                           از                                         
                                                               محمد عبداللہ۔