اردو کی محرومیاں ۔۔۔۔

  • اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ 
     ہندوستان میں دھوم ہے ہماری زباں کی 
    داغ دہلوی نے یہ شعر اردو کی شان میں لکھا تھا ۔ اس دور میں ہندوستان میں یہ اردو زبان محفلوں کی رونق بڑھایا کرتی تھی ۔ اور شاعر کوخواہ کہ مالی دشواریاں پیش تھیں لیکن پھر بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ اور اس اردو زبان کا تحریک پاکستان میں بڑا عمل دخل تھا ۔ اردو ہندی جھگڑا بھی تحریک کی کامیابی کا ایک عوامل تھا جس نے مسلمان قیادت کو نئے اسلامی ملک کے حصول کیلئے سوچنے پر مجبور کردیا ۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اردو زبان کو اس کی قومی زبان قرار دیا گیا ۔ لیکن ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے اس کی پرورش کی بجائے اس کا گلا گھوٹنے کی ہر سطح پر کوشش کی ۔ نصاب کو معین کرتے و قت ہم نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ۔ اور ہم نے شاید ماڈرن بننے کیلئے انگریزی پر اپنی ساری توجہ مرکوز کر لی ۔ اور پھر ہمارے ساتھ بلکل وہی ہوا جیسا کہ ایک ضرب المثل ہے ’’ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا ‘‘ ہم بھی انگریزی سیکھنے نکلے تھے اور اپنی زبان کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ۔ ہم بحثیت قوم دوسروں سے بہت جلدی متاثر ہوتے ہیں ۔ ہم انگریزوں سے شاید بہت ہی متاثر ہوئے اسی وجہ سے آج ہمارا نوجوان اگر اردو بھی لکھتا ہے تو رومن میں ۔ ہمارے طالب علموں میں اردو کی خواہش نہیں رہی ۔ وہ اردو سے ایسے کتراتے ہیں جیسے ان سے کسی نے ادھار مانگ لیا ہو ۔ اب ہم اردو کے رومن دور میں جی رہے ہیں ۔ لیکن ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں ۔ جہاں اردو سے بیزار لوگ پائے جاتے ہیں وہاں اردو کے چاہنے والے بھی بہت پائے جاتے ہیں ۔ اور وہ انگریزی کا نام سنتے ہی بگڑ جاتے ہیں۔ ان کو انگریزی کونین کی طرح کڑوی لگتی ہے ۔ اور وہ اردو سے اس قدر پیار کرتے ہیں کہ انگریزی کا پرچہ بھی اردو میں دینا چاہتے ہیں ۔ خیر تصویر کے دو رخ آپ نے دیکھ لیے اب ہمیں غور اس پر کرنا ہے کہ ہم کیسے اس کی دوبارہ سے صیحح طرح پرورش کر سکتے ہیں ؟ 
    سب سے پہلے ہمیں اس کو اپنے نصاب میں صیحح جگہ دینی ہوگی ۔ مثال کے طور پر ریسرچ کیلئے ایک ادارہ قائم کر دیا جائے جس کا کا م صرف ریسرچ کرنا ہو اور انگریزی کی ریسرچ یا کسی بھی زبان کی ریسرچ کا اردو میں ترجمہ کرنا ہو اور پھر اس ریسرچ کے مطابق اپنا نصاب مقرر کیا جائے ۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ہمارے طلباء اپنی زبان میں اچھی طرح نہ صرف سیکھ سکیں گے بلکہ نئی ریسرچ سے مستفید بھی ہو سکیں گے ۔ اس طرح ہمارے نصاب میں موجود پرانا مواد بھی بدلا جاسکے گا ۔ اس کے علاوہ اردو کے مصنف کو بھی اہمیت حاصل ہوگی اوراردو کی لغت پر بھی توجہ دی جا سکے گی ۔ اور ملک میں لسانی اقدار بھی دم توڑجائیں گے ۔ اور ملک ترقی کی طرف گامزن ہو سکے گا۔ 
                                             از                                          
                                               محمد عبداللہ ۔